.

ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اسرائیل واشنگٹن کے سامنے کیا شرائط رکھے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ یوسی کوہین اپنے امریکا کے آئندہ دورے کے پروگرام کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اس دورے میں ایرانی جوہری معاہدے میں واشنگٹن کی واپسی کے امکان کے حوالے سے اسرائیلی مطالبات پہنچائیں گے۔

اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" نے بتایا ہے کہ یوسی کوہین آئندہ ماہ مقررہ دورے میں متوقع طور پر امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے۔ اسی طرح خیال ہے کہ وہ دیگر امریکی ذمے داران سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون اور سی آئی اے کے سربراہ سلیم بیرنز شامل ہیں۔

غالب گمان ہے کہ یوسی کوہین امریکی انتظامیہ کے سامنے ایرانی جوہری پروگرام کی پیش رفت سے متعلق اسرائیل کی اکٹھا کردہ معلومات اور جوہری معاہدے میں بنیادی نوعیت کی اصلاح سے مطالبہ بھی پیش کریں گے۔ یہ معاہدہ جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔

اس موقع پر اسرائیل کی جانب سے شرائط کا تعین بھی کیا جائے گا۔ ان میں تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا عمل روک دیا جانا، جدید سینٹری فویجز کی تیاری بند کر دینا، مسلح تنظیموں کی جن میں لبنانی حزب اللہ سر فہرست ہے سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لینا، عراق، شام اور یمن میں ایرانی عسکری وجود کو ختم کرنا، بیرون ملک اسرائیلی اہداف کے خلاف سرگرمیاں بند کر دینا اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو ایرانی جوہری پروگرام کے تمام جوانب تک رسائی دینا شامل ہے۔

اس سے قبل جو بائیڈن کی انتظامیہ باور کرا چکی ہے کہ ایرانی جوہری معاملہ واشنگٹن کے لیے اولین ترجیح ہے۔