.

شام میں ایرانی زیرتسلط علاقے میں البوکمال میں زور دار دھماکوں اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی مشرقی گورنری دیر الزور میں ایران کے زیرکنٹرول علاقے البوکمال میں العباس کے مقام پر زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ 'سیرین آبزرویٹری' کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جس علاقے میں بم دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں وہاں پرایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ابھی تک ان دھماکوں کی نوعیت اور ان کی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے۔المرصد کے مطابق دیر الزور میں 19 جنوری کو زور دار دھماکے ہوئے تھے۔ صرف دس روز میں‌یہ دوسرے دھماکے ہیں۔/ ذرائع کا کہنا ہے دھماکے فاطمیون بریگیڈ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ فاطمیون ملیشیا نے 13 جنوری کو دیر الزور کے قریب اسرائیلی بمباری کی باقیات کو جمع کرکے اسے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اس سے قبل بھی اسرائیل بمباری کے دوران ناکارہ ہونے والے بموںکو دھماکوں سے اڑایا جاتا رہا ہے۔ زور دار دھماکوں کے نتیجے میں مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا گیا۔

سیرین آبزر ویٹری کے مطابق دھماکوں سے دیر الزور کا علاقہ لرز اٹھا۔ یہ دھماکے افغان جنگجوئوں پر مشتمل فاطمیون ملیشیا نے کیے ہیں اور ان دھماکوں میں دیر الزور کے مغرب میں الرواد کے مقام پر اسرائیلی بمباری کے دوران ناکارہ ہونے والے بموں اور بموں کی باقیات کو تباہ کیا گیا۔

اسرائیلی ویب سائٹ'INTELLI TIMES' ایران کی فیلق القدس کے شام میں قائم 'یونٹ 850' کو نشانہ بنائے جانے کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ اس یونٹ کے ہیڈ کواٹر کو چار ماہ قبل تباہ کردیا گیا تھا۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ حملے کفر سوسوہ کے مرکز پر کیےگئے۔ ایرانی قونصل خانہ وہاں سے صرف 500 میٹر دور ہے۔