.

نہ جنگ اور نہ انقلاب ، بشار حکومت کے لیے ایک نیا خطرہ سر اٹھا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرا نہیں خیال کہ طویل میعاد میں بشار حکومت کے باقی رہنے کی ضمانت دی جا سکتی ہے ... یہ وہ عبارت ہے جو امریکا اور اقوام متحدہ کے ایک سابق عہدے دار جیفری فیلٹمین نے شامی حکومت کی صورت حال اور مستقبل میں اس کی بقاء کے لیے خطرہ بننے والے چیلنجوں کے تجزیے اور ویژن کے خلاصے کے طور پر کہی۔

جیفری نے واضح کیا ہے کہ سماجی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق چیلنجز بہت سے ایسے مسائل کو جنم دیں گے جن سے نمٹنا دمشق حکومت کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ یہ صورت حال بشار حکومت کے لیے شامی انتفاضہ (مزاحمتی تحریک) سے زیادہ بھاری ثابت ہو گی۔

اتوار کے روز عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جیفری کا کہنا تھا کہ ایران، حزب اللہ اور روس جنہوں نے پہلے بشار حکومت کو بچانے کے واسطے عسکری طور پر تیزی دکھائی تھی ،،، اس بار اقتصادی طور پر اسے ہر گز نہیں بچائیں گے۔

اگرچہ شامی صدر بشار کی حکومت چند برس پہلے کے مقابلے میں عسکری طور پر زیادہ مضبوط ہو چکی ہے تاہم جیفری کا کہنا ہے کہ "بشار حکومت کی بقاء کے لیے موجود خطرہ عسکری نہیں رہا اور نہ یہ انتفاضہ کے سبب ہے بلکہ اس کی وجہ اقتصادی صورت حال ہے"۔

جیفری کے مطابق سابق دو صدور ڈونلڈ ٹرمپ اور باراک اوباما کی انتظامیہ شام میں داعش کی ہزیمت کے سوا واشنگٹن کے بقیہ اہداف کے حوالے سے نمایاں نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

جیفری فیلٹمین اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے لیے سیاسی امور کے معاون کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ مشرق وسطی کے امور کے لیے امریکی وزیر خارجہ کے معاون بھی رہے۔

امریکی صدر بائیڈن کی ترجیحات میں شام کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے جیفری کا کہنا تھا کہ"میں بائیڈن کی انتظامیہ میں نہیں ہوں مگر صدر کی انتظامیہ کی ترجیحات مقامی ہیں۔ جہاں تک خارجہ امور کا تعلق ہے تو میں توقع کرتا ہوں کہ اس کی ترجیحات میں چین کے ساتھ تعلق، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ، شمالی کوریا، روس اور نیٹو اتحاد کے معاملات کی درستی شامل ہیں۔ شام ترجیحات میں سے تو نہیں ہے مگر اس کا دیگر تمام ترجیحات سے تعلق ہے۔ میں شام کو ترجیحات میں سرفہرست نہیں رکھوں گا تاہم یہ دیگر قضیوں کا ایک حصہ ہے اور شام کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے فیصلے ہونے چاہئیں"۔

یاد رہے کہ حالیہ اقتصادی بحران کے سبب کچھ عرصہ قبل شام بالخصوص بشار کے زیر کنٹرول علاقوں میں بدعنوانی، کوٹہ سسٹم اور بدترین معاشی حالات کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔