.

سعودی عرب کا تاریخی علاقہ الدیسہ سرما سیاحتی سیزن کا اہم پکنک پوائنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع 'الدیسہ ' وادی کو تاریخی اور قدرتی مقامات کی بدولت اہم ترین سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت سیاحت کی طرف سے رواں موسم سرما کے دوران 'سرما سیاحتی پروگرام' شروع کیا ہے۔ 10 دسمبر سے 31 مارچ تک جاری رہنے والے اس سرما سیاحتی سیزن کے دوران مقامی اور خلیجی ممالک کے سیاحوں کے لیے 17 مقامات کو کھولا گیا ہے۔ سعودی عرب کی 200 کمپنیاں اس وقت سیاحتی پروگرام پر کام کرتےہوئے سیاحوں کو سہولیات فراہم کررہی ہیں‌۔
اپنے منفرد اور معتدل موسم، قدرتی مقامات اور تاریخی اہمیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وادی الدیسہ بھی سرما سیزن میں سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔
الدیسہ گائوں اپنی مخصوص تاریخ رکھتا ہے اور یہاں پر زمین سے فوارے کی طرف ابلتے پانی کے چشمے سیاحوں کے لیے طلسماتی منظر تشکیل دیتے ہیں۔ الدیسہ گائوں تبوک کے جنوب مغرب سے 200 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے یہ مقام 200 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کا موسم اور آب وہوا معتدل ہے۔ صرف موسم سرما ہی نہیں بلکہ سال بھر یہاں پر سیاحوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق وادی الدیسہ پانی کیوجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس کے سال بھر جاری رہنے والے میٹھے پانی کے چشمے اس کے جنت نظیر ہونے کی دلیل ہیں۔ الدیسہ کی وادیاں، پہاڑ قدرت کے شاہکار ہیں۔ الدیسہ کا سب سے مشہور مقام وادی قراقر ہے۔ یہاں پر میٹھے پانی کے کئی چشمے ہیں۔ سب سے بلندی پر واقع چشمے کو الزرقا کہا جاتا ہے۔

اس کے علاہ مشہور چشموں میں القطار، الطریف، النمطیہ شامل ہیں۔ یہ گائوں دو حصوں پر مشتمل ہے۔ جنوب میں ضبا کا علاقہ ہے۔ الدیسہ میں دیگر اہم سیاحتی مقامات میں الدیسہ ابو العجاج، البدیع، نابع داما، وادی قراقر شامل ہیں۔ یہاں پر کھجور کے درختوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مہندی کے پودے بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ مقام ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لیے بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔ اس کی خوبصورتی اور الفریب مناظر کا حقیقی معنوں میں فائدہ ہائیکنگ کرنے والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔