.

عائشہ شبیلی کی محنت سے 93 سابق قیدی مختلف پیشوں کی مہارت میں کامیاب

سعودی خاتون کا سابق قیدیوں کو کارآمد شہری بنانے کا مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر جازان سے تعلق رکھنے والی ایک ہنر مند خاتون نے اپنے سابق قیدیوں کو بھی معاشرے کے کارآمد شہری بنانے کا مشن شروع کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عائشہ شبیلی نے بتایا کہ وہ کچھ عرصے سے سابق قیدیوں کو سلائی کڑہائی، پلمبرنگ اور ٹائلنگ کے کام سکھا رہی ہیں تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں اور ان پر لگا ایک قیدی کا لیبل بھی اتر سکے۔ اس طرح لیبرمارکیٹ میں انہیں کوئی کام دلوایا جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں الشبیلی جوکریٹیوٹ انیمل سوسائٹی برائے کرافٹس اینڈ پروفیشنز کی صدر بھی ہیں نے بتایا کہ اس کا شروع کردہ پروگرام سماجی بہبود کا بہترین پروگرام ہے۔


اس نے کہا کہ میں‌نے کئی سال قبل میں نے نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت دینے کا پروگرام بنایا مگر میں کوئی اس سے بھی بڑا کام کرنا چاہتی تھی۔ میں جیلوں‌ سے رہا ہونے والوں کو ایک ماں‌ کی نظر سے دیکھتی۔ میں ان کی معاشرے میں واپسی کے بعد انہیں کارآمد شہری بنانے کے لیے مختلف پہلوئوں‌پر غور کرتی۔ سابقہ قیدیوں کو معاشرہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا مگر میں انہیں سماج کا حصہ بنانا چاہتی تھی۔ اس نے بتایا کہ پہلے اس کے پاس 50 سابق قیدیوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی اور اب تربیت مکمل کرنے والے سابق اسیران کی تعداد 93 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں بعض ابھی بھی کام سیکھ رہے ہیں۔