ایران: خلا میں سیٹلائٹ لے جانے والے راکٹ "ذو الجناح" کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی وزارت دفاع نے مصنوعی سیارہ لے جانے والے ایک راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ راکٹ ٹھوس ایندھن سے کام کرنے والے "طاقت ور ترین" انجن کی ٹکنالوجی سے لیس ہے۔ تہران کا یہ اقدام امریکا کی جانب سے احتجاج سامنے لا سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے پیر کے روز وزارت دفاع میں خلائی یونٹ ے ترجمان احمد حسینی کے حوالے سے بتایا کہ "ذو الجناح" کو تحقیقی مقاصد کے لیے پہلی مرتبہ خلا میں چھوڑا گیا ہے۔ یہ راکٹ 220 کلو گرام وزنی سیٹلائٹ کو زمین کی سطح سے 500 کلو میٹر دور مدار میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک صحرائی علاقے میں راکٹ چھوڑے جانے کے مناظر نشر کیے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق راکٹ کا تجربہ سمنان صوبے میں کیا گیا جہاں ایرانی خلائی مرکز واقع ہے۔

ایران کی اس طرح کی سرگرمیوں کی مغربی ممالک بالخصوص امریکا کی جانب سے مذمت کی جاتی ہے۔ تہران پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ خلا میں سیٹلائٹس چھوڑنے کے ذریعے بیلسٹک میزائلوں کے میدان میں اپنے تجربے کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ امریکا کو اندیشہ ہے کہ ایران اس خصوصی ٹکنالوجی کو نیوکلیئر وار ہیڈز داغنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں