ایران کا جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے لیے یورپ سے ثالثی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کی ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے ثالث کا کردار ادا کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران نے یورپی ثالثی کے تحت امریکا کی جوہری پروگرام میں واپسی کی شرط پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزیاں روکنے کی پیش کش کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے 'سی این این' ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے لیے ایک ہی وقت میں رابطہ کاری ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی خارجہ و سیاسی کمیٹی کے سربراہ جوزف بوریل امریکا کی جوہری معاہدے کے حوالے سے رابطہ کاری کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کا ایک ہی وقت میں جوہری معاہدے کی طرف بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ اس حوالے سے جلد کوئی موثر میکانزم طے کیا جائے گا۔

قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس کے لیے ایران کو بھی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں