.

سفارت خانوں پر حملے کا ایرانی منصوبہ ناکام ، تہران نے اپنے ایجنٹوں کو افریقا بھیجا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے ایک افریقی ملک میں دہشت گرد حملے کے واسطے یورپی اور ایرانی شہریت رکھنے والے ایجنٹوں کو بھیجا۔ اسرائیلی سرکاری ریڈیو کے مطابق یہ اقدام ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکتوں کے جواب میں کیا گیا۔

اسرائیلی ریڈیو نے مغربی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے اس منصوبے کی تفصیلات کو جاری کیا۔ تفصیلات کے مطابق بعض ایجنٹس فرانسیسی شہری ہیں جو ایران کی شہریت رکھتے ہیں۔ ان افراد کو مذکورہ افریقی ملک میں بھیجنے کا مقصد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے سفارت خانوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا تھا۔ بعد ازاں ان سفارت خانوں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

ذرائع نے افریقی ملک کا نام نہیں بتایا تاہم بیت المقدس میں ایک امریکی چینل (الحرہ) کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ملک براعظم افریقا کے مشرق میں واقع ہے۔ نامہ نگار نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں مذکورہ ملک اور دیگر ممالک میں بعض افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

چند روز قبل بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کے نزدیک دھماکا ہوا تھا، تاہم اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دو روز قبل وزیر دفاع بینی گینٹز کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ ، چیف آف اسٹاف آفیف کوخافی اور وزارت خزانہ اور وزارت دفاع کے ذمے داران بھی موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد وزارت دفاع کے بجٹ کے تقاضوں کا تعین کرنا تھا۔