.

کرونا وبا کے دنوں‌ میں سعودی حکومت کی زائرین اور معتمرین کے لئے علمی اور فکری خدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے جہاں حجاج کرام اور معتمرین کو مناسک کی ادائی میں تمام سہولیات فراہم کرنے اور ان کی ہرضرورت پوری کرنے کا عزم کررکھا ہے وہیں حکومت کی طرف سے حرم مکی میں آنے والے مہمانوں کو اعتدال پسندانہ تعلیمات فراہم کرنے اور انتہا پسندی سے روکنے کے لیے بھرپور دینی اورعلمی ذخیرہ بھی فراہم کیا ہے۔

کرونا وبا کے دوران اگرچہ حج اورعمرہ کے مناسب متاثر ہوئے مگر دوسری طرف حکومت نے حجاج اور معتمرین وزائرین کو اسلام اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش کردہ اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنا بھی اپنے اہداف میں شامل رکھا ہے۔ حکومت کی طرف سے 2024ء تک حجاج وکرام کو اسلام کی صحیح اور اعتدال پسندانہ تعلیمات کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا اور اس کے لیے لٹریچر کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

کرونا وبا کےدوران حرم مکی میں حجاج اورمعتمرین کی خدمت کرنےوالی ایجنسیوں نے فکری تحفظ اور اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کئی پروگرامات اور اقدامات کیے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دین اسلام کی حقیقی اور اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دروس قرآن اور دروس احادیث کا اہتمام کیا گیا۔ حرمین میں دینی تعلیمات کے کئی ورچوئل پروگرامات بھی کیے گئے جن میں اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

وبا کے دنوں‌میں زائرین حرم مکی میں ممتاز علما الشیخ عبدالعزیز بن باز اور الشیخ محمد بن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کی کتب تقسیم کی گئیں اور ان کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے فکری نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔

نوجوانوں کے فکری تحفظ کے لیے علمی اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے نوجوانوں کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ان پروگرامات میں 7760 افراد نے شرکت کی۔

صحن کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کے دوران 2500 افراد کو تربیت دی گئی جب حج کے دوران خصوصی طور پر 1000 افرا کی اضافی تربیت کی گئی۔

زائرین کو کتب اور لٹریچر کی فراہمی کا بھرپور اہتمام کیا گیا۔ کرونا کے دونوں میں 153 کامیاب علمی سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ 25 ای بکس فراہم کی گئی۔ زائرین نے 43 ہزار 520 کتب ڈائون لوڈ کیں۔ فکری نشستوں کے دوران تربیت دینے والے مردو وخواتین کی تعداد 1823 تک پہنچ گئی۔اس دوران 423 رضاکارانہ پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔