.

لبنان:حزب اللہ کے مشہورناقد ،صحافی اور سیاسی تجزیہ کار لقمان سلیم کار میں مردہ پائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مشہور ناقد،صحافی اور سیاسی کارکن لقمان سلیم اپنی کار میں مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

لبنانی سکیورٹی فورسز کے مطابق لقمان سلیم بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔ان کی کار لبنان کے جنوبی علاقے سے ملی ہے۔اس علاقے پر حزب اللہ کا مکمل کنٹرول ہے۔

مقتول کے دوست اور امریکن یونیورسٹی بیروت میں پروفیسر مکرم رباح نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ’’لقمان سلیم کو سر میں گولی ماری گئی تھی اور ان کی کرائے کی کار نبطیہ کے علاقے سے ملی ہے۔‘‘

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ انھیں کیوں قتل کیا گیا ہے اوراس واردات کے پیچھے کس کا ہاتھ کارفرما ہے۔

سکیورٹی فورسز نے ان کی لاش صیدا شہر میں ایک اسپتال میں منتقل کردی تھی۔لاش کا طبّی ملاحظہ کرنے والے ایک ڈاکٹرکاکہنا ہے کہ سلیم کے سر میں چار گولیاں ماری گئی تھیں اورایک گولی ان کی پشت میں ماری گئی تھی۔

مقتول سلیم متحرک سیاسی کارکن اور پبلشر تھے اور وہ ایک تحقیقی مرکز بھی چلاتے تھے۔ ان کے خاندان کے مطابق وہ بدھ کی شب لبنان کے جنوب میں واقع ایک گاؤں میں اپنے دوست سے ملاقات کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔

وہ گاؤں نہاالجنوب سے دارالحکومت بیروت آرہے تھے لیکن وہاں سے روانہ ہونے کے چھے گھنٹے کے بعد بھی ان کا پتا نہیں چلا تھا۔ ان کی بہن رشاالامیر نے ٹویٹر پر اطلاع دی تھی کہ ان کا فون بند جارہا تھا اور کسی اسپتال میں بھی ان کے پہنچنے کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔

مکرم رباح کا کہنا تھا کہ ’’لقمان سلیم حزب اللہ پر کڑی نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔وہ جس علاقے میں مردہ پائے گئے ہیں،وہاں حزب اللہ کا گہرا کنٹرول ہے۔‘‘

لقمان سلیم اور حزب اللہ

ان کی لاش ملنے کےبعد حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نے عربی زبان میں یہ عبارت ٹویٹ کی تھی(ترجمہ):’’کسی کا نقصان دراصل ایک غیرمتوقع حاصل ہے اور دوسروں کے لیے نعمت ہے۔‘‘اس کے بعد انھوں نے اس ٹویٹ کو حذف کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ یہ کسی بھی طرح کسی کی موت کے بارے میں نہیں تھی۔

مقتول ایک صحافی ، سیاسی تجزیہ کار اور کارکن تھے۔ انھیں حزب اللہ کا ناقد اور اس کی مخالف توانا شیعہ آواز سمجھا جاتا تھا۔ان پر حزب اللہ کے وفادار میڈیا میں حملے کیے جاتے تھے اور انھیں امریکا کا آلہ کار بھی قرار دیا جاتا تھا۔

مقتول ایک سیکولر جمہوریت نوازتھے۔انھوں نے اپنی اہلیہ مونیکا بورگمن کے ساتھ مل کر متعدد دستاویزی فلمیں بنائی تھیں۔انھوں نے ہی سوشل میڈیا پر سب سے پہلے اپنے خاوند کے لاپتا ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔