.

گریجوایٹ سعودی نوجوان لکڑی کے فن پاروں کا ماہر کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک نوجوان نے یونیورسٹی سے گریجوایشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش کے بجائے اپنے شوق کو نئے آہنگ سے روشناس کرکے ایک نئے فن کو تخلیق کیا ہے۔

سعودی عرب کے نوجوان نایف المتحمی نے حال ہی میں یونیورسٹی سے گریجوایشن کی۔ اسے قدرتی اشیا اور درختوں کا بہت شوق ہے۔ اسی شوق کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے خشک لکڑ کے ٹکڑوں سے فن پارے تیار کرکے اپنے معاصر نوجوانوں کو بھی حیران کردیا۔ وہ لکڑی سے ایسے خوبصورت ڈیکوریشن پارٹس تیار کررہا ہے جسے دیکھ کر لکڑی کا کام کرنے والے ماہر کاری گر بھی حیران ہیں۔

نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے درختوں کی سرمایہ کاری اور انہیں لکڑی کے کام میں تبدیل کرنے کی اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی 5 سال پہلے شروع ہوئی جب میں نے اپنے گھر 'لاؤنج' تیا رکیا اور اس میں لکڑی کے خوبصورت فن پارے تیار کرکے رکھے۔ اسے ہر دیکھنے والے نے بے حد پسند کیا اور میرے خاندان کی طرف سے میری خوب حوصلہ افزائی کی گئی۔ میں‌نے اس حوصلہ افزائی سے لکڑی کا دیوانیہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے مزید کہا کہ میں آہستہ آہستہ لکڑی کےڈیکوریشن میں مزید ماہر ہوتا گیا۔ میں نے اگلے مرحلے میں ڈیکوریشن فن پاروں سے آگے بڑھ کر ببول کے درخت کی لکڑی سے میزیں بنانا شروع کردیں۔ دو سال قبل میزوں کی تیاری کام شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے بہن کے گھر میں ایک کمرے کو ایسی سجاوٹ دی کہ جیسے وہ ایک جھونپڑی ہو۔ ان کے اس بیڈ روم میں کیا گیا کام بھی بہت پسند کیا گیا۔

اس نے کہا کہ میں نے درختوں سے اپنی محبت کو اس میدان میں کام کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں ببول جیسے درخت کی لکڑی کو فن پاروں کی تیاری کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ اس درخت کی لڑکی کافی مضبوط ہوتی ہے۔ اس درخت کی عمر 200 سال تک ہوسکتی ہے۔ لکڑی کے فن پاروں کی تیاری میں دوسرے درختوں کی لکڑی بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔