.

نجران: سعودی عرب کے صحرا ربع الخالی کا سیاحتی صدر دروازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نجران کا علاقہ سعودی عرب کے سب سے بڑے صحرا 'الربع الخالی' کے جنوب مغربی کنارے پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجران کو ربع الخالی میں آنے والے سیاحوں کے لیے صدر دروازہ قرار دیا جاتا ہے۔

موسم سرما میں صحرا میں داخلے کے لیے نجران کا راستہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ صحرا میں داخلے اور بری سیاحت کے لیے نجران کو صدیوں سے اہمیت حاصل ہے۔ سعودی عرب میں وزارت سیاحت کے زیراہتمام سرمائی سیاحتی سیزن کا آغاز کیا گیا۔ یہ سیزن نومبر 2020ء سے اکتیس مارچ 2021ء تک جاری رہے گا۔ یہ موسم صحرا ربع الخالی میں سیاحت، اس کے ریتلے ٹیلوں سے لطف اٹھانے اور صحرا کے سیاحتی مقامات کے قدرتی حسن تک پہنچنے کا بہترین موقع ہے۔

صحرا ربع الخالی میں صرف ریتلے میدان ہی نہیں بلکہ اس میں تاریخی ورثے کے حامل ٹیلے، چٹانیں، رات کے وقت ستاروں کے نظاروں سے لطف اٹھانے اور خاموش سمندر پر تا حد نگاہ پھیلے نیلے آسمان کے نظاروں سے لطف اٹھانے کا بھی موقع ملتا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق ربع الخالی صحرا کی سرحد نجران کے انتظامی علاقے سے متصل ہے۔ نجران کے شمال مشرق میں عروق بنی زبادہ، نشیب میں عرق المندفن اور حمرا نثیل، شمال مغرب میں شرورہ گورنری جو 400 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس علاقے میں صحرا میں‌ موجود ریت کے بعض ٹیلے 200 میٹر تک بلند ہیں۔ عروق المندفن میں سنہرے رنگ کی ریت، شمال کی طرف پھیلا پہاڑی سلسلہ، جنگی حیات کی قدرتی پناہ گاہ عروق بنی معارض 12 ہزار 658 مربع کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔

جنگلی حیات اور سیاحت کے لیے مختص یہ 'ریزرو' 12 ہزار 787 مربع کلومیٹر پھیلا ایک وسیع وعریض علاقہ ہے جو اپنے اندر جنگی اور قدرتی حیات کا بے پناہ خزانہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ اس کا شمار سب سے بڑے ریتلے صحرائے ربع الخالی میں اپنے مسحور کن مظاہر اور شاندار نظاروں کی وجہ سے سیاحوں کا مسکن ہوتا ہے۔

اس علاقے میں جنگی حیات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں لمبے اور نوکیلے سینگوں والا نایاب ہرن بھی دیکھا گیا ہے۔ اسی جنگلی پناہ گاہ میں ختم ہوتی ہوئی نسل کے خطرے سے دوچار الریم ہرن، پہاڑی ہرن، عربی شتر مرغ اور جنگلی بھیڑوں کے تحفظ کا پروگرام شروع کیا گیا۔ یہ چرند پہلے بھی خطے میں موجود تھے مگر وقت کے ساتھ ان کا شکار زیادہ ہونے سے ان کی نسلی کشی ہوئی اور وہ نایاب ہوتے چلے گئے۔ انہیں دوبارہ اس پناہ گاہ میں آباد کیا گیا جس کے بعد اب ان کی نسلیں فطری طریقے سے نشو نما پا رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق "عروق بنی معارض" ریزرو میں ایک سے زیادہ طریقوں سے جنگلی حیات کے حفاظتی اسلوب اور طریقے اپنائے گئے ہیں۔ حفاظتی دیواروں اور باڑوں کے بغیر یہ ایک کھلا مقام ہے۔ سعودی نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ عروق بنی معارض کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسے ہیریٹیج پروگرام جیسے عالمی ثقافتی پروگراموں اور یونیسکو ورلڈ نیچرل ایریا، 'آئی یو سی این' گرین پروٹیکٹڈ ایریاز پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عروق بنی معارض تفریح گاہ کو اس کے قدرتی وسائل کی خصوصیات اور سیاحت کے لیے بہترین مقام ہونے کی بہ دولت سعودی وزارت سیاحت نے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر سیاحتی شعبے میں بھی متعدد پروگرامات شروع کیے ہیں۔ یہاں پر سیاحتی تجربات میں مملکت میں جاری 'سرما سیاحتی سیزن' کا تجربہ بھی شامل ہے۔

سعودی عرب کے ٹوریسٹ گائیڈ محمد بن حسین آل مستنیر نے صحرا ربع الخالی کے قدرتی اور سیاحتی عوامل پر روشنی ڈالی۔ انہوں‌ نے بتایا کہ صحرا کے آس پاس بسنے والے لوگوں کا طرز بود باش اب بھی پرانا ہے۔ ان لوگوں کی عادات، اطوار اور رسم و رواج مختلف ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر اونٹ پالتے اور ان کا زیادہ وقت اس صحرا میں گذرتا ہے۔ یہ لوگ عروق بنی معارض سے حمرا نثیل تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد بن حسین نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے نجران کے علاقے میں سیاحوں کی آمد ورفت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں پرایک تاریخی مقام 'آبار حمیٰ' کہلاتا ہے تاہم مجموعی طور پر ربع الخالی کے ریتلے ماحول میں اس کی ریت کی رنگت، بلندی اور شکل بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کا سفر عروق بنی زبادہ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ جگہ ربع الخالی اور نجران کے درمیان ہے۔ یہاں سے ربع الخالی صحرا 15 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ نجران میں بنی بجاش، الرمرام جو زرد اور سنہری ریت کے ٹیلوں پر مشتمل ہے سیاحوں‌ کی جنت کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ 'سیفی' نامی مقام 80 میٹر بلند ہے۔

صحرائی ریت کے اعتبار سے اہم مقامات میں 'عروق الصفیات' ابو شدید، المحدبہ، مشرقی بنی زبادہ جو خباش گورنری سے 100 سے 120 کلومیٹر کی مسافرت پر واقع ہیں اہم مقامات ہیں۔