.

تخلیق کائنات کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترقی یافتہ ممالک کی طرح عرب دنیا بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی خلا کی وسعتوں میں تحقیق جو جستجو کے لیے مل کر کوشش کررہے ہیں۔ تخلیق کائنات کے عظیم الشان مشن میں عرب ممالک کی شمولیت عرب اقوام کا دیرینہ خواب ہے۔ امارات اور سعودی عرب اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی طرف کام کررہے ہیں۔

اسی حوالے سے گذشتہ روز امارات کی خلائی ایجنسی نے عرب خلائی شعبے کی ترقی کے لیے'امارات' نے سعودی عرب کی خلائی اتھارٹی کی شراکت سے ایک ورچوئل سیمینار کا انعقاد یا۔ اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد مریخ اور دوسرے سیاروں پر ہونے والی تحقیقی کوششوں میں حصہ ڈالنا ہے۔ اس مشرکہ خلائی تحقیقاتی منصوبے کو'امید پروجیکٹ' کا نام دیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خلا کی گہرائیوں میں اپنا تحقیقی مشن بھیجنے کی تیاری کررہے ہیں۔ خاص طور پر مریخ کی کھوج لگانے کے حوالے سے یہ عرب دنیا کا پہلا تحقیقی مشن ہوگا۔

اس سمپوزیم کا انعقاد ایک ایسے وقت میں‌ ہو رہا ہے کہ دوسری طرف امارات کا 'ہوپ پروب' مشن نو فروری کو سرخ سیارے کے مدار میں داخل ہو رہا ہے۔ اس کے انعقاد کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلائی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرنا اور خلائی تحقیق کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تاکہ مریخ کی کھوج کےمتحدہ عرب امارات کے منصوبے کو عملی شکل دینے میں مزید معاونت فراہم کی جاسکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق 'مسبار الامل' یعنی 'ہوپ پروب' مشن نہ صرف عرب ممالک بلکہ یہ عالم اسلام کی سائنسی اور تحقیقی کوششوں کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کو خلائی تحقیقات کے میدان میں شامل کرنے کا حصہ ہے۔

سائنسی سمپوزیم میں "ہوپ پروب" کے مشن پر توجہ مرکوز کی اور عرب خلائی شعبے کی خوشحالی اور ترقی کے لیے اس کے اہم مضمرات پر بات کی۔ اس موقعے پر خلائی آپریشنز پروگرام کے سربراہ انجینیر ماجد بن شاریح اور سعودی عرب کے خلائی پروگرام کے نگران انجینیر حصہ المطروشی، خلائی ایجنسی کے مشنز کے سربراہ انجینر عبد اللہ خلیفہ المرر ، انجنییر ناصر الحمادی نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ "ہوپ پروب" نے عرب خلائی عزائم کے لیے ایک نیا راستہ کھولا ہےاور عرب سائنسی صلاحیتوں کی کارکردگی کو دنیا کے سامنے ثابت کردیا ہے۔

سعودی ماہرین نے امارات کی طرف سے مریخ کی کھوج کے لیے خلائی مشن بھیجنے کی تحسین کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف امارات کی نہیں بلکہ پوری عرب دنیا کی کامیابی کی علامت ہے۔