.

شامی باکسر کا قاسم سلیمانی سے انتقام ، ایرانی حریف 15 سیکنڈز میں چِت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں منعقد ہونے والی یورپی "کک باکسنگ" چیمپین شپ کے ایک مقابلے میں شامی باکسر عمار الحاج نے محض 15 سیکنڈ میں اپنے ایرانی حریف محمود کو زمین پر چت کر دیا۔ کرونا وائرس کے حوالے سے سخت احتیاطی اقدامات کے سبب جمعرات کے روز ہونے والے اس مقابلے میں تماشائیوں کی محدود تعداد موجود تھی۔

شامی باکسر عمار الحاج ترکی میں کک باکسنگ کی کئی چیمپین شپس جیت چکے ہیں۔ حالیہ مقابلے میں عمار نے پہلا راؤنڈ شروع ہونے کے 15 ویں سیکنڈ میں ایرانی حریف پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ زمین پر گر پڑا۔ ایرانی باکسر دوبارہ اٹھنے سے قاصر رہا جس پر ریفری نے مقابلہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شام کے عمار الحاج کو فاتح قرار دیا۔

اگرچہ شامی باکسر (86 کلو گرام) اور ایرانی باکسر (134 کلو گرام) کے درمیان وزن کا بڑا فرق تھا تاہم شامی باکسر نے حتمی طور پر ایرانی حریف کے جبڑے پر زور دار مکا اور پھر چہرے پر لات رسید کی۔ اس کے نتیجے میں ایرانی باکسر کو دن میں تارے نظر آ گئے۔

عمار الحاج کے والد نے آج ہفتے کے روز العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹییل فون پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق عمار نے مقابلہ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد کہا کہ "میں نے نے میچ کھیلا اور میری آنکھوں کے سامنے شام میں میرا منہدم گھر تھا"۔ عمار کے والد نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا اپنے حریف کو اس طرح ضربیں لگا رہا تھا گویا کہ اسی نے ہمارا گھر گرایا ہو۔ شامی باکسر عمار کا آبائی علاقہ حلب ہے۔

شامی باکسر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید بتایا کہ مقابلہ شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے انہوں نے عمار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ "تم جس کے خلاف میچ کھیل رہے ہو اسی نے ہمیں ہجرت پر مجبور کیا، اسی نے ہمارے گھر تباہ کیے اور اسی نے تمہارے چچاؤں کو ہلاک کیا ... یہ قاسم سلیمانی ہی تھا"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کا کمانڈر اور دہشت گرد قرار دیا جانے والا سلیمانی جو گذشتہ برس بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ اس کی ملیشیاؤں نے کئی علاقوں میں شامیوں کے قتل میں حصہ لیا۔ ان علاقوں میں حلب بھی شامل ہے جو شامی باکسر عمار کا آبائی علاقہ ہے۔

عمار کے والد احمد الحاج کے مطابق جب ان کے بیٹے کو معلوم ہوا کہ مقابلہ ایرانی حریف سے ہے تو اس کا جوش اور جذبہ بڑھ گیا۔ احمد نے کہا کہ "ایران کے لیے ہمارے دلوں میں نفرت بھری ہے ... لہذا حماس زیادہ پر جوش ہو گیا"۔ اس کی وجہ شامیوں کا خون بہانے میں بشار کی فوج کے ساتھ ایران بھی ملوث ہے۔

احمد الحاج نے اپنے گھرانے کے ساتھ 2012ء میں شمالی حلب کے دیہی علاقے سے کوچ کر کے ترکی کا رخ کیا تو عمار کافی کم عمر تھا۔ اس وقت بشار کی فوج کی جانب سے حلب پر آگ برسائی جا رہی تھی۔ عمار کے گھرانے نے تباہی ، بم باری اور قتل کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ترکی ہجرت کی۔