.

اصیل عرب گھوڑوں کی تصاویر کو 'نیا آہنگ' دینے والی سعودی فوٹوگرافر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی آپٹیکل پیکٹوریل خاتون فوٹو گرافر نے عربی النسل گھوڑوں کی تصاویر کو ایک نئے جمالیاتی حسن میں پیش کر کے فوٹو گرافی کے فن کو ایک نیا آہنگ دیا ہے۔

سعودی فوٹو گرافر منیرہ السویحب کے فوٹو گرافی کے فن کو مملکت میں وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ اس نے گھوڑوں کی مختلف حرکات وسکنات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف دلفریب رنگوں میں ڈھال کراپنی پیشہ وارانہ فوٹو گرافی کے فن کا ثبوت پیش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے منیرہ السویحب نے کہا کہ وہ 12 سال سے ملک کے طول وعرض میں گھوڑوں کے اصطبلوں میں اپنا کیمرہ لے کر گھوم رہی ہیں۔ اس کی توجہ کا مرکز اصیل نسل کے عرب گھوڑے ہیں اور میں ان کی عاشق ہوں۔ میرے اپنے حواس کو مجتمع کر کے گھوڑوں کی تصاویر کشی کرتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ گھوڑوں کی میری بنائی تصاویر میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایسے لگتا ہے جیسے ان تصاویر میں ابھی روح داخل ہو جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں منیرہ کا کہنا تھا کہ گھوڑوں کے فوٹو گرافر کے لیے پہلی اہم چیز اس کی گھوڑوں کے ساتھ محبت ہونی چاہیے۔ اس کی مہارتوں میں اہم یہ ہے کہ وہ گھوڑوں کی حرکات سے آگاہ ہو۔

اس نے بتایا کہ گھوڑوں کے اہم فوٹو شوٹس ان کے حسن میں‌ پنہاں ہے۔ ان کی آنکھوں کی گہرائی، پیشانی کی کشادگی، گھوڑوں کے نتھنے، گردن، کندھے اور دم [پونچھ] اور دیگر حصے ان کے جمالیاتی حسن کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں منیرہ السویحب کا کہنا تھا کہ اس نے فوٹو گرافی کا فن اپنے ذاتی ذوق کی بنیاد پر سیکھا ہے۔ میں نے اپنے خاندان میں ہونے والی تقریبات کی فوٹو گرافی شروع کی۔ میں نے سیلفی میں مہارت حاصل کی اوراس کے بعد پیشہ وارانہ فوٹو گرافی کا فن اختیار کیا۔

خیال رہے کہ السویحب نے فوٹو گرافی کے فن میں کئی عالمی ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔ اسے گذشتہ برس فوٹوگرافی کے یورپی ممالک میں چوتھا اورجرمنی میں ہونے والا فوٹو گرافی کے مقابلے میں آٹھواں انعام حاصل کیا تھا۔

منیرہ السویحب الخرج آپٹیکل پیکٹوریل گروپ میں لیڈیز سیکشن کی ڈپٹی چیئرپرسن ہیں۔ الخرج کمشنری اور اس سے باہر منعقد ہونے والی متعدد نمائشوں میں نام کما چکی ہیں۔