.

شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کا مطلب جوہری معاہدے کا خاتمہ نہیں: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کے ملک امریکا کی جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے کوئی اضافی شرط عاید نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 21 فروری جوہری معاہدے کے اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد کی حتمی اور آخری تاریخ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کی بعض شرائط اور پروٹوکول پر عمل درآمد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور جوہری معاہدے کو زندہ کرنے کے تمام دروازے بند ہو گئے ہیں۔

قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف سب کی نگاہیں نئی امریکی انتظامیہ پر مرکوز ہیں جو اس شرط پر معاہدے پر واپس آنے کی تیاری کر رہی ہے کہ تہران معاہدے کی اپنی تمام خلاف ورزیوں کو پہلے روکے۔

جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ اگر 21 فروری تک ایران پر عاید کی گئی پابندیاں ہٹائی نہیں جاتیں تو حکومت جوہری پروگرام سے متعلق اپنا موقف مزید سخت کر دے۔

جواد ظریف نے ایران کے جوہری معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال جون میں ایران میں ہونے والے انتخابات کے بھی اس معاہدے پر ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتےہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں مزید سخت گیر صدر منتخب ہوگیا تو جوہری معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے فارسی اخبار'ہمشہری' اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہ امریکیوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے قانون اور نئے سال میں ایران میں انتخابات کے ماحول کی وجہ سے جوہری معاہدے پر امریکا کی واپسی متاثر ہو سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی نیا سال 21 مارچ سے شروع ہوتا ہے۔ گذشتہ دسمبر میں انتہائی قدامت پسندوں کے زیر اثر پارلیمنٹ نے اس قانون کی منظوری دی تھی جس میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے امریکا کو دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران اپنی دفعات پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے تو امریکا اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجائے گا۔ یہ اس وسیع معاہدے کا نقطہ آغاز ہوگا جو ایران کے میزائل پروگرام کو ترقی دینے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایران کو خطے میں سرگرمیوں‌ سے بھی روکے گا۔

جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکا معاہدے کی پاسداری کرنے سے پہلے پابندیوں میں نرمی کرے۔ ایران نے وسیع تر سیکیورٹی امور پر بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے جمعہ کے روز اپنے برطانوی، فرانسیسی اور جرمن ہم منصبوں کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں ایرانی جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام میں امریکا کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔