.

شام: داعش کے حملے اور جھڑپ میں اسدنواز ملیشیا کے 26 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک حملے اور جھڑپ میں اسدنواز ملیشیا کے 26 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ دیرالزور میں سوموار کی صبح داعش نے اسدنواز جنگجوؤں کے قافلے پر حملہ کیاتھا اور اس کے بعد ان کے درمیان خونریز لڑائی چھڑ گئی تھی۔

رصدگاہ کے مطابق لڑائی میں طرفین کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔البتہ اس نے صرف شامی حکومت کے حامی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔سال کے آغاز کے بعد شام میں کسی ایک جھڑپ میں اسد نواز جنگجوؤں کا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

داعش نے 30 دسمبر کو صوبہ دیرالزور میں ایک بس پر حملے کی بھی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس حملے میں 37 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ داعش کا 2019ء کے اوائل میں اپنی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے بعد شامی فوج پر یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔

عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شام کا یہ مشرقی علاقہ ماضی قریب میں داعش کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔داعش کے جنگجو اب آئے دن جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج یا ان کے اتحادی جنگجوؤں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

داعش نے 2014ء میں شام کے مشرقی ، شمال مشرقی اور مغربی علاقوں اور عراق کے شمالی اور مغربی صوبوں پر قبضہ کرکے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرلی تھی لیکن پھر شامی فوج ، امریکا اور اس کی اتحادی کردفورسز اور روس نے مختلف جنگی محاذوں پر داعش کو شکست سے دوچار کیا تھا اور شامی فوج نے ان کے زیرقبضہ بیشتر علاقے واپس لے لیے تھے۔

جنگ زدہ ملک میں 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ عام شہری تھے اوران میں 22 ہزار بچّے بھی شامل تھے۔