.

یورینیم افزودگی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے روک سکتی ہیں: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی سرکاری عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم افزدگی کی سرگرمیاں کسی نئے معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل 'سی این این' کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ایران میں جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے یہ سرگرمیاں کسی نئے جوہری معاہدے کے حصول کو روک سکتی ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ فی الحال ایک داخلی معاہدے پر دستخط کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکا ایرانی جوہری معاملے کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہا انتظامیہ نے پہلے ہی ایران کے حوالے سے اپنے خطوط قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف سب کی نگاہیں نئی امریکی انتظامیہ پر مرکوز ہیں جو اس شرط پر معاہدے پر واپس آنے کی تیاری کر رہی ہے کہ تہران معاہدے کی اپنی تمام خلاف ورزیوں کو پہلے روکے۔

جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ اگر 21 فروری تک ایران پرعاید کی گئی پابندیاں ہٹائی نہیں جاتیں تو حکومت جوہری پروگرام سے متعلق اپنا موقف مزید سخت کردے۔

جواد ظریف نے ایران کے جوہری معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ رواں سال جون میں ایران میں ہونے والے انتخابات کے بھی اس معاہدے پر ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتےہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں مزید سخت گیر صدر منتخب ہوگیا تو جوہری معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے فارسی اخبار'ہمشہری' اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہ امریکیوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے قانون اور نئے سال میں ایران میں انتخابات کے ماحول کی وجہ سےجوہری معاہدے پر امریکا کی واپسی متاثر ہو سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی نیا سال 21 مارچ سے شروع ہوتا ہے۔ گذشتہ دسمبر میں انتہائی قدامت پسندوں کے زیر اثر پارلیمنٹ نے اس قانون کی منظوری دی تھی جس میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے امریکا کو دو ماہ کی مہلت ی گئی تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران اپنی دفعات پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے تو امریکا اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجائے گا۔ یہ اس وسیع معاہدے کا نقطہ آغاز ہوگا جو ایران کے میزائل پروگرام کو ترقی دینے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایران کو خطے میں سرگرمیوں‌ سے بھی روکے گا۔

جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکا معاہدے کی پاسداری کرنے سے پہلے پابندیوں میں نرمی کرے۔ ایران نے وسیع تر سیکیورٹی امور پر بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔