.

کیا روس ’’حُمَيْمِيم‘‘ فوجی اڈے کو مستقبل میں جنگی کارروائیوں کے لیے تیارکررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں شام میں سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تصاویر میں گورنری اللاذقیہ میں واقع 'حمیمیم' فوجی اڈے کے رن وے میں غیر معمولی توسیع دکھائی جاسکتی ہے۔ اب تک یہ ہوائی اڈا خطے میں فوجی نوعیت کی عام پروازوں کے لیے مختص تھا ۔اس فوجی اڈے کے رن وے میں‌ غیر معمولی توسیع سے ماہرین یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ روس اس اڈے کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پورے خطے اور افریقا تک اپنے فوجی طیاروں کی پروازوں کے لیے تیار کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ روس اس فوجی اڈے کو بھاری بھرکم جنگی طیاروں اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کے لیے استعمال میں لانا چاہتا ہے۔

اخبار الشرق الاوسط کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حمیمیم فوجی اڈے میں توسیع گذشتہ برس جولائی میں اضافی پروٹوکول پر دستخط کا پہلا مظہر ہوتا ہے۔ اس پروٹوکول کے تحت روس کو حمیمیم فوجی اڈے کو غیرمعمولی حد تک توسیع دینے کی اجازت دی گئی تھی۔

روسی فوج نے فوجی اڈے کے اطراف کی وسیع اراضی کو اس میں شامل کرنا شروع کیا ہے۔ تاکہ اس اڈے کو کثیر مقاصد فوجی اڈے میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روس اس اڈے کو صرف فوجی اور شام میں سیاسی آپریشن کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ اڈا مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے کسی بھی علاقے میں روس کی عسکری کاررائیوں کا بیس کیمپ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد روس کے لیے بحیرہ روم میں کم اخراجات پر طیاروں کی پروازیں ممکن ہوجائیں گی اور اسے سائبیریا اور دوسرے علاقوں کے فوجی اڈوں‌ کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر شائع کرنے والی ویب سائٹ' دا ڈرائیو' کے مطابق حمیمیم فوجی اڈے کے مرکزی رن وے کی توسیع اس کی گنجائش بڑھانے کی طرف اہم قدم ہے۔ اس توسیع کے بعد روس کے لیے مشرق وسطیٰ‌ میں لاجسٹک اور تزویراتی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تصاویر 14 دسمبر کو سیٹلائٹس سے حاصل کی گئی تھیں۔ ان تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس حمیمیم فوجی اڈے کے رن وے میں 300 میٹر کی توسیع کر رہا ہے۔