.

حوثیوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کی حمایت پر کاربند ہیں: امریکی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ نے شہریوں کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں اور نفرت آمیز برتاؤ کی مذمت کی ہے۔

اس سلسلے میں پیر کی شام امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرائس نے کہا کہ "ہم حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف اپنی اراضی کے دفاع کے سلسلے میں سعودی عرب کی حمایت پر کاربند ہیں"۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "ہم یمنی عوام کے دکھوں میں کمی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی مملکت سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے"۔

پرائس نے باور کرایا کہ امریکا حوثی قیادت پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ انتھیونی بلیکن کانگریس کو آگاہ کر چکے ہیں کہ وہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یمن اس فیصلے کو واپس لینے کے نتائج سے بارہا خبردار کر چکا ہے۔ یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ایسا کرنا تہران میں موجود حکمراں نظام کے لیے ایک "مفت تحفہ" ہو گا، یہ خطے میں ایران کی تخریبی پالیسی کو مضبوط بنائے گا اور بین الاقوامی مفادات کے لیے خطرہ بن جائے گا"۔

الاریانی کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے مذکورہ فیصلے کو واپس لینے کا عندیہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کو غلط اشارے پہنچائے گا۔ ایران کی پشت پناہی کے سائے میں حوثی ملیشیا اپنی مجرمانہ کارروائیاں اور شہریوں کے حقوق کی پامالیاں جاری رکھے گی .. وہ خطے میں انارکی اور دہشت گردی پھیلانے کی پالیسی پر رمل پیرا رہے گی۔

حوثی ملیشیا کو "دہشت گرد جماعت" قرار دینے کا امریکی فیصلہ گذشتہ ماہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ البتہ امریکا نے یمن میں امدادی تنظیموں کو حوثیوں کے خلاف اس فیصلے کے ضمن میں عائد متعلقہ پابندیوں سے مستثنی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی جانب سے وقتا فوقتا حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔