.

کرونا وائرس کی موجودگی کے بعد 12 سعودی مساجد سیل کر دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور، دعوت اور راہنمائی نے منگل کے روز ملک کے مختلف حصوں میں 12 مساجد کو وقتی طور پر بند کر دیا۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق یہ فیصلہ ان مساجد میں کرونا میں مبتلا نمازیوں کی موجودگی کے بعد کیا گیا۔ حالیہ فیصلے کے بعد دو دنوں میں تالا بندی کا ہدف بننے والی مساجد کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 6 مساجد کو سینی ٹائزیشن جیسے اعلیٰ حفاظتی اقدامات کے بعد دوبارہ نمازیوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزارت کے حوالے سے بتایا کہ متعلقہ حکام نے منگل کے روز ریاض ریجن میں 8 مسجدیں بند کیں۔ ان میں چار الریاض شہر کی طویق، القصر، العریجاء اور قرطبہ نامی کالونیوں میں واقع ہیں۔ دو مساجد حریملاء اور ایک ایک مسجد الدلم اور وادی الدواسر میں بتائی جاتی ہے۔

مشرقی ریجن کے شہر بقیق میں بھی حکام نے ایک مسجد بند کی ہے جبکہ عسیر ریجن کی ٹثلیث کمشنری میں ایک اور مسجد کو تالا لگا دیا گیا۔ دو مساجد الجوف ریجن کے شہر سکاکا میں تھیں جہاں کرونا وائرس کے ٹھوس ثبوت ملنے پر انہیں بھی نمازیوں کے لیے بند کیا جا چکا ہے۔

وزارت کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ جن مساجد پر تالا بندی کی گئی ہے انہیں تمام احتیاطی تدابیر بشمول ان میں جراثیم کش سپرے کے بعد ہی کھولا جائے گا۔

وزارت نے نمازیوں پر زور دیا ہے کہ وہ طے شدہ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے نماز ادائی کے لئے مسجدوں کا رخ کریں۔ ان اقدامات میں چہرے کو ماسک سے ڈھانپنا، گھر سے جائے نماز لانا اور وبا سے بچاؤ کے لیے طے شدہ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا شامل ہیں۔ امام مساجد اور دیگر عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ نمازیوں کو ایس او پیز سے متعلق تذکیر کرواتے رہیں اور اس ضمن میں ہونے والی کسی بھی خلاف ورزی کو فوری طور پر متعلقہ حکام کے نوٹس میں لائیں۔