.

گولان کی چوٹیاں اسرائیل کے پاس ہی رہیں گی:نیتن یاہو کے دفترکاامریکی وزیرخارجہ کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’گولان کی چوٹیاں اسرائیل ہی کے قبضے میں رہیں گی۔‘‘اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے یہ دوٹوک پیغام امریکا کے نئے وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کو دیا ہے۔انھوں نے سوموارکو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کی حمایت کوئی غیرمتزلزل نہیں ہے۔

مسٹر بلینکن نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ گولان کا علاقہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن قانونی سوالات بھی کچھ تقاضا کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ جب تک بشارالاسد شام میں برسراقتدار ہیں اورایران شام میں موجود ہے تو وہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے نمایاں خطرے کا موجب ہیں۔اس صورت حال میں گولان پر کنٹرول اسرائیل کی سلامتی کے لیے بدستور حقیقی اہمیت کا حامل رہے گا۔‘‘

ان کے اس انٹرویو کے ردعمل میں نیتن یاہو کے دفتر کے ایک ذریعے نے منگل کے روز کہا ہے کہ ’’اسرائیل کا مؤقف بالکل واضح ہے۔مستقبل میں کسی بھی ممکنہ منظرنامے میں گولان کی چوٹیاں اسرائیل کے پاس ہی رہیں گی۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ 2019ء میں ایک حکم نامے پر دست خط کیے تھے،اس کے تحت امریکا نے شام کے علاقے گولان پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔اسرائیل نے 1967ء میں گولان کی چوٹیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981ء میں اس علاقے کو زبردستی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

شام نے تب صدر ٹرمپ کے اقدام کو اپنی خودمختاری میں ننگی مداخلت قرار دیا تھا۔

اسرائیل اور شام اس وقت تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ان کے درمیان گولان کی چوٹیوں ہی پر عارضی حد فاصل قائم ہے۔اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں گولان کی چوٹیوں کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اس وقت اس کے تھوڑے سے حصے پر شام کا کنٹرول ہے۔