.

حزب اللہ فلاحی اداروں اور اسکولوں میں میزائل کیوں ذخیرہ کر رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے تیار کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں لبنانی شیعہ ملیشیا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی سرحد کے قریب شہری آبادی میں عوامی تنصیبات اور اسکولوں کو میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں حزب اللہ کی جانب سے برج البراجنہ میں میزائل ذخیرہ کرنے، میزائل لانچنگ تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے کے منظم استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اسرائیل کے'الما' جیو پولیٹیکل سینٹر فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کی طرف سے تیار کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برج البراجنہ میں اسلامی شیعہ اوقاف کمیٹی" کے نام سے ایک خیراتی ادارہ ہے جس کے مرکز کو حزب اللہ اسلحہ کے ایک ڈپو کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ نے بیروت میں ہائی اسکول کے قریب ایک عمارت میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے'فتح 110' میزائلوں کی بڑی تعداد ذخیرہ کی ہے۔

الما سینٹر میں ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر میجر تال بیری نے بتایا کہ یہ رپورٹ اس رپورٹ کا تسلسل ہے جو اس سے قبل جولائی 2020 میں مرکز کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔ سابقہ رپورٹ میں گریٹر بیروت میں 28 مقامات پر 'فتح 110' میزائل سائٹس کا انکشاف کیا گیا تھا۔

میجر جنرل بیری جنھوں نے لبنان اور شام میں مہارت رکھنے والے آئی ڈی ایف میں انٹیلیجنس آفیسر کی حیثیت سے 20 سال گزارے نے مزید کہا الما سینٹر کی پہلی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اعداد وشمار کو نکالنے اور نئی معلومات کا تجزیے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برج البراجنہ اور دوسرے مقامات پر حزب اللہ کی طرف سے اسلحہ ذخیرہ کی معلومات کے ساتھ یہ معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں کہ اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی کے لیے کن لوگوں کی زمین اور عمارتیں استعمال کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ الما سینٹر نے نئی معلومات کی تلاش کو مکمل کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں بتایا کہ برج البراجنہ میں شیعہ اوقاف کمیٹی کے دفتر کی آڑ میں ایک عمارت کو اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سماجی خیراتی ادارہ ہے جو 25 سالوں سے سرگرم ہے اور حزب اللہ کی حمایت کرنے والی ایک کمپنی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

الما اس ادارے سے وابستہ سات کمپلیکس کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہا جس میں اس کمیٹی کا مرکزی احاطہ بھی شامل ہے۔ اس میں دفاتر، ایک کانفرنس ہال اور مذہبی اجتماع کے لیے ایک ہیڈ کوارٹر اور چھ تعلیمی کمپلیکس اور اسکول ہیں۔ ان میں سے کچھ کے بارے میں شبہ ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کے خلاف استعمال ہونے والے میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بیری نے مزید کہا کہ ان تنصیبات کو حزب اللہ کے اسلحہ گوداموں کے طورپر ثابت کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی 2020 میں جاری کردہ الما کی رپورٹ میں مذکورہ نام نہاد فلاحی فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے دو کمپلیکسوں پر روشنی ڈالی گئی جو کھیلوں کا مرکز اور تعلیمی مرکز ہیں۔

اسرائیلی عہدیدار وضاحت کی کہ جولائی 2020 کی رپورٹ کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد پتا چلا کہ حزب اللہ اپنے اسلحہ کو چھپانے کے لیے دینی اداروں، اسکولوں اور صحت کے مراکز کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ آبادی کے اندر اسلحہ ذخیرہ کررہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے آبادی کے اندر اور عوامی تنصیبات کو میزائلوں اور اسلحہ کے ذخائر جمع کرنے کا مقصد جنگ کی صورت میں آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہے۔