.

یمن میں سیاسی حل کے لیے امریکا کی حمایت، سعودی کابینہ کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کابینہ نے مملکت کی خود مختاری کے دفاع کے سلسلے میں امریکا کی جانب سے تعاون پر کاربند رہنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسی طرح یمن میں سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے جاری کوششوں کے حوالے سے واشنگٹن کی مسلسل حمایت کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

یہ موقف منگل کے روز سعودی کابینہ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد اجلاس کی صدارت سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔

اجلاس میں کابینہ نے قانون سازی کے نظام کی ترقی کے حوالے سے سعودی ولی عہد کے اعلان کو گراں قدر قرار دیا۔ کابینہ نے باور کرایا کہ مملکت کی دانش مند قیادت حقوق کے تحفظ اور انصاف کے رسوخ سے متعلق نظام کی اصلاح کے ذریعے شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کے حقوق کی ضمانت یقینی بنا رہی ہے۔

اس موقع پر کابینہ نے حرمین شریفین اور اس کا رخ کرنے والے حجاج، معتمرین اور عام افراد کی خدمت کے لیے مملکت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ کابینہ کے مطابق کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مملکت کی جانب سے مثالی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر کابینہ نے دارالحکومت ریاض میں عالمی کمپنیوں کے علاقائی مرکزی دفاتر کے قیام کے لیے دستخط کیے گئے سمجھوتوں کا بھرپور خیر مقدم کیا۔ کابینہ کے مطابق یہ سمجھوتے علاقائی اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی منڈی کو حاصل اہمیت اور اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس پیش رفت سے نئے سیکٹر ترقی کی منازل طے کریں گے اور وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

سعودی عرب کے نامزد وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں عرب دنیا کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر حالات و واقعات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ دوست ممالک کے ساتھ مملکت کے تعلقات مشترکہ مفادات اور متبادل احترام پر مبنی ہے۔ سعودی عرب خطے اور دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہے۔

کابینہ نے ایک بار پھر یہ مطالبہ دہرایا کہ عالمی برادی ایران کی جانب سے دشمنانہ کارروائیوں کے سبب بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کرے۔ تہران کی جانب سے عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خطے میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کی سپورٹ کا سلسلہ جاری ہے۔