انتخابات سے قبل فتح موومنٹ اپنی داخلی ترتیب درست کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی اخباری ذرائع کے مطابق اسرائیل نے فتح موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور فلسطینی وزیر حسین الشیخ کو اسرائیلی جیل میں قید رہ نما مروان البرغوثی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ توقع ہے کہ یہ ملاقات آج ہو گی۔

مروان البرغوثی فتح موومنٹ کے ایک اہم رہ نما ہیں۔ وہ عمر قید کی سزا پانے کے بعد 19 برس سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔

مروان البرغوثی کے قریب فتح موومنٹ کے اندرونی ذرائع کے مطابق البرغوثی آئندہ صدارتی انتخابات میں خود کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سروے رپورٹوں کے مطابق مروان البرغوثی کو فلسطینی عوام میں بڑے پیمانے پر مقبولیت اور ہمدردی حاصل ہے۔ وہ صدارتی انتخابات میں جیت کے لیے بھرپور امیدوار ہو سکتے ہیں۔

دیگر بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مروان البرغوثی انتخابی امیدواروں کی جو فہرست تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ فتح موومنٹ کی سرکاری فہرست سے مختلف ہو گی۔ البرغوثی کی فہرست میں عوامی مقبولیت اور احترام کے حامل فتح موومنٹ کے رہ نما شامل ہوں گے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ فتح موومنٹ کے رہ نما اور فلسطینی وزیر حسین الشیخ ملاقات کے دوران مروان البرغوثی کو اس بات پر قائل کریں گے کہ انتخابات کے لیے ایک فہرست پیش کی جائے۔ ایک سے زیادہ فلسطینی ذمے داران کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ موجودہ صدر محمود عباس فتح موومنٹ کی جانب سے اکلوتے امیدوار ہیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ فتح موومنٹ کے اندرونی مسائل کا بم کسی بھی وقت دھماکے سے پھٹ سکتا ہے اور 15 برس بعد ہونے والے انتخابات کا اجرا ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ فلسطینی اراضی میں آخری مرتبہ قانون ساز انتخابات کا انعقاد 2006ء میں ہوا تھا۔ اس موقع پر فتح موومنٹ کے اندرونی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس تنظیم نے کامیابی حاصل کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں