ایران شام میں امریکی فوج کے خلاف حملوں کے لیے کوشاں ہے: انٹیلی جنس رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی عسکری انٹیلی جنس ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر شمال مشرقی شام میں امریکی فوج پر محدود حملے کرنے یا حملوں کی حوصلہ افزائی کے واسطے کوشاں ہے۔ اس کا مقصد امریکی فوج کے انخلا کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

پینٹاگان میں جنرل انسپیکٹر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں داعش تنظیم کا خطرہ کم ہو جانے کے باوجود ایران نے دیگر اہداف کو ترجیحات متعین کر لیا ہے۔ ان میں امریکا کو شام سے نکل جانے پر مجبور کرنا شامل ہے۔ اسی طرح تہران امریکی فوج کے خلاف حملے کرنے یا حملوں کی حوصلہ افزائی کی کوشش میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے شام کے صوبے دیر الزور کے مشرقی علاقے میں مقامی باشندوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تا کہ شام میں موجود امریکی فوج اور اتحادی افواج کے بارے میں معلومات اکٹھی کر سکے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے شام کے مشرق میں اُن علاقوں میں اپنا وجود باقی رکھا ہوا ہے جو پہلے داعش تنظیم کے زیر کنٹرول تھے۔ اس کا مقصد اپنے لوجسٹک راستوں کا تحفظ ہے۔

مذکورہ رپورٹ گذشتہ برس اکتوبر کے آغاز سے 9 دسمبر 2020ء تک کے درمیانی عرصے پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس نے داعش تنظیم کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے انسداد میں شامی حکومت کی کوششوں کو سپورٹ کرنا ہے۔

دستاویزی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران ،،، شام سمیت خطے میں امریکا کے خلاف کارروائیوں کے لیے منصوبے وضع کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے نزدیک ایران کی ہمنوا فورسز ممکنہ طور پر شام میں امریکی مفادات اور واشنگٹن کے ہمنوا فریقوں پر حملوں کی صلاحیت رکھیں گی۔

دوسری جانب عمومی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شام کے صوبے دیر الزور کے مشرقی حصے میں مقامی عناصر کی بھرتی کی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کا مقصد غیر ملکی عناصر پر مشتمل ملیشیاؤں کو مضبوط بنانا ہے۔ ایران نے ان ملشیاؤں کو بشار کی حکومت کو سپورٹ کرنے کے واسطے شام میں پھیلا دیا۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الباقر بریگیڈز اور ایران نواز دیگر ملیشیاؤں نے میادین اور البوکمال کے درمیان دریائے فرات کے جنوبی کنارے پر پھیلے متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملیشیائیں الحسکہ اور حلب میں قبائلی جنگجوؤں کو بھرتی کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پینٹاگان نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ شام میں موجود امریکی فوج ملک میں تیل کی حفاظت کی ذمے دار نہیں رہی ،،، اس لیے کہ امریکی فوج کی واحد ذمے داری داعش تنظیم کے خلاف مزاحمت ہے۔ یہ اعلان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج کی متعین ذمے داریوں میں واضح ترمیم ہے۔

پینٹاگان کا مزید کہنا تھا کہ شمال مشرقی شام میں تعینات امریکی عسکری اہل کاروں کی تعداد اس وقت تقریبا 900 ہے۔ ان کی وہاں موجودگی کا سبب شام میں داعش تنظیم کے خلاف مشن کو سپورٹ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں