سیاحت کے فروغ کے لیے شرم الشیخ کے گرد 36 کلومیٹر کنکریٹ کا حصار قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر نے حال ہی میں جزیرہ نما سینا کے جنوبی کنارے پر واقع بحیرہ احمر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ کے گرد 36 کلومیڑ قطر پر محیط کنکریٹ اور خاردار تار پر مبنی حفاظتی حصار تعمیر کیا ہے تاکہ مصر کے اس پرفضا مقام پر سیاحتی سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

جنوبی سیناء میں حکام امید کر رہے ہیں کہ اس اقدام سے سیاحت کو از سر نو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ مصر میں 2011 کی عوامی بیداری تحریک، 2015 میں سیناء کے علاقے میں روسی مسافر طیارے کے حادثے اور کرونا وائرس نے ملکی سیاحت پر کاری ضرب لگائی تھی۔ ادھر 2005 میں شرم الشیخ کے مقام پر ہونے والے دھماکوں میں درجنوں افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ مصر میں ہونے والے ہولناک عسکری حملے تھے۔

شرم الشیخ کے گرد تعمیر جانے والا حفاظتی حصار کنکریٹ کی سلیبوں اور ان پر لگی خاردار تاروں پر مشتمل ہے۔ یہ حصار صحت افزا مقام کو اپنے گرد پھیلے صحرا سے علاحدہ کرتا ہے۔ چند سلیبوں پر سیاہ رنگ میں امن کا نشانہ لگایا گیا ہے۔

شہر میں سڑک کے راستے داخلے کے لیے چار دروازوں میں سے ایک کے اندر سے گذرنا ہوگا جس پر نگرانی کے لئے کیمرے اور سکینرز نصب کیے گئے ہیں۔

شرم الشیخ سیناء کی جنوب میں بحر متوسط کے شمالی ساحل سے 360 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ علاقہ عسکریت پسند مسلمانوں کی آماجگاہ رہا ہے۔

جنوبی سینا کے گورنر خالد فودہ نے اختتام ہفتہ علاقے کا دورہ کرنے والے صحافیوں کو بتایا "کہ جنوبی سینا اور شمالی سینا کے علاقے میں حفاظت کا فریضہ علی الترتیب مصر کی تھرڈ آرمی اور سیکنڈ آرمی کر رہی ہے۔ دنوں علاقوں کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔‘‘

’’یہاں آنے والوں کی تلاشی لی جائے گی، کیمروں سے ان کی شاخت کی جائے گی۔ گاڑیوں کو سکینگ کے عمل سے گذارا جائے گا، جس کے بعد وہ شہر میں داخل ہو سکیں گے۔ یہ مکمل تلاشی آپریشن ہو گا۔‘‘

گذشتہ ہفتے شرم الشیخ کے ساحلی شہر میں مصر کے قدیم فن پاروں پر مبنی میوزیم کا افتتاح کیا گیا جس کا مقصد علاقے میں سیاحت کی سرگرمیوں میں تنوع لانا تھا۔ علاقے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے نام سے موسوم ایک یونیورسٹی بھی حال میں کھولی گئی ہے۔

کرونا وائرس سے پہلے شرم الشیخ متعدد بین الاقوامی سربراہی کانفرنسوں کی میزبانی کا شرف حاصل کر چکا ہے جن میں دیگر کے علاوہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی بھی شرکت کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں