.

ایران کے لیے پیغام، جنگی امور کا انچارج اسرائیلی انٹیلی جنس چیف تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے فوج میں جنگ کے امور کے سربراہ 'اھارون حالیوا' کو انٹیلی جنس چیف مقرر کیا ہے۔

اسرائیل کے کثیر الاشاعت اخبار 'یروشلم' کے مطابق اھارون حالیوا کی فوج کے جنگی امور کے انچارج کے عہدے پر تقرری کے ساتھ انہیں انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سونپنا ایران کے لیے اہم پیغام بھی ہوسکتا ہے۔ یہ تقرری اس اعتبار سے بھی اہم دیکھی جا رہی ہے کہ اسرائیلی فوج انٹیلی جنس ڈاریکٹوریٹ کی قیادت ایک ایسے تجربہ اور باخبر افسر کے حوالے کرنا چاہتی ہے جو ملک کو مشکل وقت میں مدد فراہم کرسکے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ماتحت آپریشنز ڈاریکٹوریٹ کا موجودہ سربراہ ہی فوج کی جنگی تیاریوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

مسٹر حالیوا فوج میں چھاتہ بردار بریگیڈ کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور وہ وزارت دفاع میں فوجی ٹریننگ اسکول میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

دوسری اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے قومی سلامتی کے مشیر مائیر بن شبات کو ایرانب کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطہ افسر تعینات کیا ہے۔

عبرانی نیوز ویب سائٹ 'واللا' کے مطابق نیتن یاھو نے بن شبات کو ایران کے جوہری تنازع پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ بن شبات آنے والے دنوں میں ایران کے جوہری معاملے پر امریکیوں‌ کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

ویب سائٹ کے مطابق بن شبات نے گذشتہ بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب جیک سلوان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی جس میں ایران کے جوہری تنازع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔