.

ترکی ہماری اراضی کے اندر سرحدی پٹی پر نیم قابض ہے: عراقی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سیکورٹی اور دفاع سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ محمد رضا آل حیدر کا کہنا ہے کہ ترکی نے عراق کی سرزمین کے اندر سرحدی پٹی پر " نیم قبضہ" کر رکھا ہے۔

آل حیدر نے جمعرات کے روز عراقی چینل "السومریہ" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "عراق اور ترکی کے درمیان 2008ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کے تحت عراقی سرحد کے اندر دہشت گرد تنظیموں کو وہاں سے باہر کیا جانا تھا۔ تاہم اس معاہدے کی مدت اور مسافت متعین تھی۔ یہ کارروائی ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ جاری نہیں رہنی تھی مگر ترکی نے اس کی پاسداری نہ کی"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "ترکی نے اس وقت عراق کی اراضی کے اندر سرحدی پٹی پر نیم قبضہ کر رکھا ہے ، یہ پٹی تقریبا 17 کلو میٹر طویل ہے"۔

واضح رہے کہ ترکی نے بدھ کے روز عراق کے صوبے دہوک میں کرد دیہات پر بم باری کی۔ اس دوران ترکی کے لڑاکا طیاروں نے کئی میزائل داغے۔ علاوہ ازیں فضائی بم باری کے بعد پہاڑی علاقے میں ترکی کے فوجیوں کو اتارا گیا۔ اسی طرح مذکورہ علاقے میں انقرہ مخالف کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح اعکان اور ترک فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ترکی نے گذشتہ برس جون سے عراق میں کردستان کے اندر دو فوجی آپریشن شروع کر رکھے ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ دونوں آپریشنز کے دوران اب تک بڑے پیمانے پر جانی اور مادی نقصان ہو چکا ہے۔