.

ایران کو کرونا وائرس کی ’’چوتھی لہر‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: حسن روحانی کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے کچھ شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد صدر حسن روحانی نے وبا کی ’چوتھی لہر‘ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ہم سب کے لیے تنبیہہ ہے۔‘

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں صدر حسن روحانی نے مزید کہا کہ ’جنوب مغربی صوبے خوزستان کے کچھ شہروں میں کرونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ ’چوتھی لہر‘ کی جانب بڑھنے کا آغاز ہے، ہمیں اس سے بچنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔‘

ایران میں کرونا وائرس سے 59 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 15 لاکھ دس ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دسمبر کے آخر سے ایران میں سات ہزار سے کم کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم فروری کے شروع میں کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران میں روزانہ کی بنیاد پر اموات میں کمی واقع ہوئی ہے، جنوری کے شروع میں اموات کی تعداد سو سے کم رپورٹ ہوئی۔

صدر روحانی کا بیان روس کی جانب سے سپوتنک ویکسین کی وصولی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ روس نے ایران کو ویکسین کی ایک لاکھ خوارکیں فراہم کی ہیں۔

ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ’ویکسینیشن کی مہم منگل سے شروع ہوئی ہے۔ ایران نے روس سے ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں خریدی ہیں۔‘ ایرانی وزیر صحت نے کہا ہے کہ ’ایران ویکسین کی 42 لاکھ خوراکیں اینگلو سویڈش فرم ایسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے وصول خریدے گا۔‘ ایران نے یہ ویکسین کوویکس کے ذریعے خریدی ہے۔ ایران خود بھی کرونا وائرس کی ویکسین پر کام کر رہا ہے۔