.

یرغمال سعودی لڑکے کی خاندان میں واپسی کی پہلی سالگرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر دمام میں کم سنی کی عمر میں اغوا ہونے والے لڑکے موسیٰ الخنیزی نے اپنے خاندان سے ملاقات کی پہلی سالگرہ منائی۔ الخنیزی نے سنیپ چیٹ پر اپنے اہل خانہ سے دوبارہ ملاپ کی پہلی سالگرہ ملائی۔

خیال رہے کہ موسیٰ الخنیزی کو دمام سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور کچھ دیگر افراد نے بہت چھوٹی عمر میں اغوا کرکے اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا۔ حال ہی میں سعودی عرب کی ایک عدالت نے خاتون سمیت تمام ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں۔

خاندان میں دوبارہ واپسی کے بعد اپنی پہلی سالگرہ کے موقعے پر ویڈیو پیغام میں موسیٰ الخنیزی کا کہنا تھا کہ والدین اور اپنے خاندان سے بچھڑنے کا صدمہ بہت گہرا ہے اور وہ اس صدمے کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔

الخنیزی نے اپنے خاندان بالخصوص ماں سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ والدہ سے ملاقات ایک مشکل اور بہت خوبصورت موقع تھا۔ ماں نے مجھے میرے بچپن کے بارے میں بتایا ماں نے مجھے گود میں‌ بٹھا لیا۔ اس کی ملاقات سے میں بہت خوش ہوا اور وہ مجھ سے ملاقات سے خوش تھی۔ الخنیزی کا کہنا تھا کہ ماں سے پہلی ملاقات کے موقعے پرمیرے لیے شوارما تیار کیا گیا تھا۔ ماں نے کہا کہ یہ تمہارے اور تمہارے بھائیوں کے لیے ہے۔

خیال رہے کہ موسیٰ علی منصور الخنیزی کو1999ء میں دمام شہرمیں ایک سعودی خاتون اور اس کے شوہر نے اسپتال میں پیدائش کے کچھ دیر بعد اٹھا لیا تھا۔ اب ڈی این اے سے پتا چلا ہے کہ وہ محمد الخنیزی کا بھائی ہے۔ اس کے بعد اسے اس کے خاندان میں‌واپس کیا گیا۔