سعودی ولی عہد کے ایما پر نجران میں مسجد ابوبکر الصدیق کی تجدید مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں مساجد کی تزئین نو اور ان کے تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ جاری ہے۔ اس ضمن میں نجران صوبے میں مسجد ابو بکر الصدیق کی تجدید اور تزئین کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

یہ تاریخی مسجد مملکت کے جنوبی صوبے نجران میں ضلع ثار کے مغرب میں واقع ہے۔

مسجد ابو بکر الصدیق کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ یہ ثار کے علاقے میں سب سے پرانی مسجد ہے۔ یہ علاقے کی واحد مسجع ہے جہاں جمعے کی نماز کا اجتماع ہوتا ہے۔ یہاں ایک زمانے میں پڑوسی دیہات کے لوگ بھی نماز جمعہ ادا کرنے آیا کرتے تھے۔ مسجد میں درس اور لیکچروں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔

مقامی لوگ اس مسجد میں پڑھنا اور قرآن کریم سیکھا کرتے تھے۔ اس کا سماجی طور پر بھی نمایاں کردار تھا۔ یہاں مقامی باشندوں کے درمیان روزانہ کے اہم امور اور مسائل و تنازعات کے حل زیر بحث آتے تھے۔

مسجد ابو بکر الصدیق نجران صوبے کے شہر ثار سے تقریبا 3 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ مسجد کا کل رقبہ تقریبا 130 مربع میٹر ہے اور اس میں تقریبا 57 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ یہ مسجد نماز کی جگہ ، بیرونی صحن اور بیت الخلاء پر مشتمل ہے۔ یہ مسجد بلاکوں س بنی ہوئی ہے جب کہ چھت لکڑی کی ہے اور اس پر کنکریٹ کی تہہ موجود ہے۔

توسیعی کام کے بعد اب مسجد ابو بکر الصدیق میں نمازیوں کی گنجائش 118 تک ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں مسجد میں خواتین کی نماز کی جگہ اور ان کے وضو کی جگہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔

مملکت میں تاریخی مساجد کی تجدید اور بحالی سے متعلق شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت 10 صوبوں میں 30 مساجد پر کام ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں