.

شام میں چھ گنا زائد مشاہرے پر ایران نواز ملیشیا کی بھرتی، روس پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران، شام میں اپنا اثر ونفوذ بڑھانے کے لیے دن رات سرگرم ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران نواز ملیشیائوں میں شامیوں کی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت شام میں اسد رجیم کی نسبت جنگجوئوں کو چھ گنا زیادہ اجرت پر بھرتی کر رہا ہے جب کہ روس اس پر سخت مایوس دکھائی دیتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے 'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق شام میں ایرانی اثر ونفوذ القامشلی اور الحسکہ شہروں تک پہنچ گیا ہے۔ ان علاقوں میں شامی حکومت 'فاطمیون' ملیشیا کا دائرہ کار وسیع کررہی ہے۔ ایران، فاطمیون ملیشیا میں‌ بھرتی ہونے والے جنگجوئوں کو فی کس سالانہ ساڑھے تین لاکھ شامی لیرہ کے مساوی اجرت فراہم کررہا ہے۔

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ وسط جنوری سے کرد فورسز نے شام کے ان علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاطمیون ملیشیا نے نیشنل ڈیفینس کے لیے 205 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ ملیشیا القامشلی، الحسکہ میں ہو رہی ہے۔ یہ بھرتیاں ایک ایرانی نژاد الحاج علی نامی جنگجو کر رہا ہے۔

شام میں اسد رجیم کی طرف سے اپنے سرکاری عناصر کو ماہانہ 50 ہزار لیرہ اجرت دی جاتی ہے جب کہ ایرانی حکومت شام میں اپنے عسکری گروپوں میں چھ گنا زیادہ اجرت دی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شام میں جنگجوئوں کو بھاری اجرت دینا انہیں اپنے چنگل میں پھنسانے کے لیے لالچ دینا ہے۔ حسکہ گورنری اور القامشلی میں شامی نیشنل ڈیفنس نے 800 جنگجو بھرتی کیے گئے تھے۔ وہ ایران کی طرف سے زیادہ اجرت کا لالچ ملنے کے بعد نیشنل ڈیفینس کو چھوڑ کر فاطمیون ملیشیا میں بھرتی ہوگئے۔ اب نیشنل ڈیفنیس میں 300 جنگجو رہ گئے ہیں۔