نایاب 'سرخ گاجر' کی کاشت زندہ رکھنے والے سعودی خاندان سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے زرخیز اور زرعی علاقے 'الاحسا' سے تعلق رکھنے والے شہری زرعی شعبے سے کسی نا کسی طرح وابستہ رہتے ہیں مگر ایک خاندان نے الاحسا کے علاقوں میں صدیوں پہلے کاشت کی جانے والی 'سرخ گاجر' کی کاشت کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔

سعودی عرب میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی مشرقی سعودی عرب کے ایک خاندان نے نایاب نوعیت کی سرخ گاجر کی کاشت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ سرخ گاجر ان گنت طبی فواید سے مالا مال ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ الاحسا میں کاشت ہونے والی سُرخ گاجر کی کاشت دم توڑ رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ گاجرکی یہ قسم نایاب ہی نہ ہوجائے تاہم شمالی الاحسا کے علاقے المطیر کے رہائشی ایک خاندان نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہ خاندان معمول کے مطابق ہرسال اس کی کاشت کرتا ہے۔ اس خاندان کو سرخ گاجر کی کاشت جدی پشتی ملی ہے۔

الناجم خاندان کے ایک فرد جواد الناجم نے بتایا کہ سرخ گاجر سعودی عرب کی منفرد اور نایاب زرعی پیداوار ہے۔ صدیوں سے اس کی کاشت ان کے خاندان کی پہچان رہی ہے اور وہ اپنے اس پیشے سے بہت پیار کرتے ہیں۔

جواد الناجم نے بتایا کہ ہمارے باپ دادا بچپن ہی سے ہمیں سرخ گاجر کی کاشت کے طریقوں سے آشنا کرتے ہیں۔ میں اور میرا پورا خاندان سرخ گاجر کی کاشت کو آج تک زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم گذشتہ 50 سال سے سرخ گاجر کی کاشت کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگست کے مہینے میں سرخ گاجر کی بیجائی کردیتے ہیں۔ اس اس کے بعد 100 سے 120 دن یا چار ماہ تک دیکھ بحال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں