.

ایران خطے میں ننگی مداخلت کا ارتکاب کر رہا ہے: رغد صدام حسین

’’حقیقی قیادت کی غیر موجودگی میں ایران، عراق کو تر نوالا سمجھ بیٹھا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کی صاحبزادی رغد صدام حسین نے کہا ہے کہ ایران خطے میں کھلی مداخلت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عراق سے حقیقی قیادت ہٹنے کے بعد ایرانیوں نے عراق کو تر نوالا بنا لیا۔‘‘

پیر کی شب العربیہ نیوز چینل پر اپنے خصوصی انٹرویو کی پہلی قسط میں رغد صدام حسین نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ ’’عراق خطے کے تحفظ کا مشرقی دروازہ اور توازن ہے۔‘‘ یہ انٹرویو ’’العربیہ‘‘ کے مجنھے ہوئے اینکر شرایر صہیب نے اردن میں ریکارڈ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ سمجھتی ہیں صدام حسین کا عھد عراق کی عزت وقار والا دور تھا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کے والد مخصوص حالات میں سخت فیصلے بھی کر جاتے تھے۔ ’’جب صدام حسین آپ کے صدر ہو تو عوام کو خوشحالی اور آزادی کے چناؤ میں آزادی تھی۔‘‘

مستقبل قریب میں ان کی سیاست میں شمولیت سے متعلق سوال پر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’سب باتیں ممکن ہیں اور اس سلسلے میں تجاویز بھی موجود ہیں۔‘‘

اس انٹرویو میں انھوں نے دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کا خصوصیت سے ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کن حالات میں پہلے شام اور پھر اردن پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔

اپنے بچن کے خوبصورت دور کی تفیصلات بتاتے ہوئے رغد نے کہا کہ میرے والد مجھے بہت زیادہ چاہتے تھے۔ میرے والد نے مجھ سمیت کسی بہن بھائی پر کبھی سختی نہیں کی، جیسا کہ عام طور پر ان کے بارے میں مشہور تھا۔

انھوں نے کہا گھریلو ماحول سیاست سے خالی نہیں ہوتا۔ پھر انھوں نے اپنی والدہ کی غیر موجودگی میں بیلا روس کے سربراہ کے استقبال کا واقعہ سنایا۔ انھوں نے کہا کہ میرے والد کو جب حراست میں لیا گیا تو مجھے اپنے والد کے دفاع جیسا مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا.