.

خلیجی یہود برادری نے علاقائی اتحاد بنا لیا، اگلا قدم اپنی الگ عدالت کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، عمان اور قطر میں مقیم مقامی یہودیوں نے ’’خلیجی یہود برادری انجمن‘‘ تشکیل دی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا مقصد خطے میں اولین یہودی عدالت کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔

خلیجی یہود برادری انجمن کے روحانی پیشوا ربی ڈاکٹر ایلی عبادی نے ’’العربیہ انگلش‘‘ کو بتایا کہ خلیجی یہود انجمن، خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں میں بسنے والی یہودی برادری کا اکٹھ ہے جو خطے میں یہودی طرز زندگی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دبئی میں مقیم یہودی ربی ڈاکٹر عبادی کے بقول ’’ خلیجی یہود برادری انجمن میں شامل ہر علاقے کی کیمونٹی آزاد ہے، تاہم وہ یہودی زندگی سے متعلق ایک مشترکہ ہدف اور نظریہ رکھتے ہیں جسے وہ خطے میں مقیم یہود برادری اور وزٹ پر آنے والے یہودیوں کی بہتری کے لیے فروغ دینا چاہتے ہیں۔‘‘

ایسوسی ایشن کا بورڈ چھ خلیجی ملکوں سے تعلق رکھنے والے یہودی ارکان پر مشتمل ہے، جو اس فورم سے جی سی سی یہودی برادری کی بہتری کا منصوبہ وضع کریں گے۔ معاہدات ابراہیم طے پانے کے بعد خطے میں یہودی سیاحوں اور تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر عبادی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس بات محسوس کی یو اے ای میں بڑی تعداد میں یہودی آباد ہیں اور اسی طرح درمیانے درجے کی یہودی آبادی بحرین اور دوسرے جی سی سی رکن ملکوں میں مقیم ہے۔ ہم ان یہودیوں کے دلوں میں ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے احساس شراکت اور اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر ستمبر میں دستخط کردیے تھے۔ ان ممالک کے درمیان معاہدے ’’ابراہام اکارڈ‘‘ کی دستخطی تقریب امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی میزبانی میں وائٹ میں منعقد ہوئی۔ اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر دستخط وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یو اے کی جانب سے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کی جانب سے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیان نے کیے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ قبل ازیں 1979ء میں مصر اور 1994ء میں اردن اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں۔

اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی عوام اب کو اب مزید اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اسرائیل سے نفرت کے لیے کسی شدت پسندی کا عذر پیش کرسکیں ۔ اس خطے کی شاندار منزل کو روکنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

رواداری کا عہد

ربی عبادی نے بتایا کہ امن کے ان لمحات اور بین المذاہب رواداری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یہودی برادری جی سی سی میں قیام کے لیے پرتول رہی ہے۔ رواداری کے کے اس دور میں خطے کی طرف رجوع کا ہمارا خواب پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ خلیجی اقوام کی طرف سے ملنے والی پذیرائی نے ہمیں یہاں آنے کے لیے مہمیز دی ہے۔