.

مصر میں دنیا کی قدیم ترین شراب فیکٹری کے آثار مل گئے

شراب کے کارخانے کی باقیات فراعنہ بادشاہ نارمر(نعرمر) کے عھد کی ہیں: ماہرین آثار قدیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں وزارت سیاحت وآثار قدیمہ نے ملک کے جنوب میں کھدائیوں کے دوران سوھاج گورنری سے شراب تیار کرنے والی دنیا کی قدیم ترین فیکٹری کی باقیات در یافت کی ہیں۔ مصر میں فراعنہ کے دور کی دیگر قدیم ترین باقیات میں یہ ایک نیا اضافہ ہے۔

مصری محکمہ آثار قدیمہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'فیس بک' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں سوھاج میں شمالی ایبدوس کے مقام پر شراب کی اس قدیم ترین فیکٹری کی باقیات کی تصاویر اور تفصیلات شائع کی ہیں۔

مصری سیکرٹری جنرل برائے آثار قدیمہ مصطفیٰ وزیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ آثار قدیمہ اور شراب کے کارخانے کی باقیات 'نارمر' (نعرمر) کے زمانے کے ہیں۔ یہ مصری فراعنہ کے سلسلے کے ایک بادشاہ تھے جن کا زمانہ 3273 اور 2987 قبل مسیح ہے۔ یہ اسرات کے عہد کا ابتدائی دور ہے۔ برطانوی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس کارخانے کے کچھ حصے بیسویں صدی کے اوائل میں بھی سامنے آئے تھے تاہم ان کے زمانے کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

یہ کارخانہ 8 مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ ان آٹھ الگ الگ مقامات پر شراب کے تیاری کے مختلف یونٹ قائم تھے۔ یہاں پر 40 مٹی کے حوض ہیں۔ پانی اور اناج کو آپس میں ملانے کے لیے دو الگ الگ لائنوں میں حوض قائم کیے گئے۔

ریسرچ مشن کے چیئرمین ڈاکٹر ماتھیو آدمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کارخانے میں ایک وقت میں 22 ہزار لیٹر شراب تیار کی جاتی تھی۔