.

شامی دارلحکومت دمشق کے اطراف اسرائیلی فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے شام کی اراضی پر اریرانی فورسز کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔

شامی فوج نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ دارالحکومت دمشق میں اسرائیلی جارحیت کی کوشش کو پسپا کر دیا گیا۔

شامی حکومت کے ہمنوا میڈیا نے نے تازہ ترین بم باری میں نشانہ بننے والے ٹھکانوں کے بارے دیگر تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔ آخری دو ماہ کے دوران اسرائیل نے شام کے اندر ایرانی حمایت یافتہ عسکری اہداف پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

شامی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوجی طیاروں نے گولان کی پہاڑیوں پر پروازیں کیں۔ ان کا مقصد دارالحکومت کے کناروں پر واقع علاقوں میں متعین اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر اسرائیلی میزائلوں کو مار گرایا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا حملے میں کوئی ہلاک یا زخمی بھی ہوا۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ انہوں نے دمشق کے جنوبی حصے میں زور دار دھماکے سنے۔ اس حصے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ تعینات ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس آخری حملے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اسرائیل کے سینئر عسکری ذمے داران ماضی میں یہ اقرار کرتے رہے ہیں کہ شام کے اندر بھرپور حملوں کا مقصد وہاں ایران کے عسکری وجود کو ختم کرنا ہے۔

ایران نواز مسلح گروپوں کو شام کے مشرقی، جنوبی اور شمال مغربی علاقوں کے علاوہ دارالحکومت دمشق کے اطراف کئی مضافاتی علاقوں میں وسیع کنٹرول حاصل ہے۔ اسی طرح لبنان اور شام کے درمیان سرحدی علاقے بھی ان گروپوں کے زیر کنٹرول ہیں۔

گذشتہ ماہ 13 جنوری کو شام کے مشرق میں ہتھیاروں اور عسکری ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 57 افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں کا تعلق شامی فوج اور یران نواز گروپوں سے تھا۔

اسرائیلی فوج نے دسمبر میں اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس نے 2020ء کے دوران شام میں تقریبا 50 اہداف کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔