.

سعودی عرب کے دفاع میں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں :المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبد اللہ المعلمی نے'العربیہ' ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنے مفادات کے دفاع کے لیےکسی سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

المعلمی نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم اس کے ساتھ اس کی دہشت گردی کی بنیاد پر نمٹ رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکی ایلچی یمن کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں ایران کا کردار تخریب کاری پرمبنی ہے۔

المعلمی نے واضح کیا کہ یمن کے بحران کا سیاسی حل یمنی عوام کی مرضی اور سفارتی کوششوں سے ممکن ہے۔

گذشتہ جمعہ کو امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ حوثی قیادت پراعتماد نہیں کرتی۔ امریکا یمن میں جنگ کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں کی طرف سے مسلسل اشتعال انگیزی اور حملوں کے ساتھ خطے میں ہمارے شراکت داروں پر حملے بھی شامل ہیں۔ ہم ان پر دباؤ بڑھانا جاری رکھیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں جاری بحران کے سیاسی اور سفارتی حل پر یقین رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں