.

اسرائیل میں متعیّن یو اے ای کے پہلے سفیر کا نئے سرکاری اکاؤنٹ سے پہلا ٹویٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے پہلے سفیر محمد الخاجہ نے تل ابیب میں اپنی سفارتی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں ۔انھوں نے ٹویٹر پرسفیرکے سرکاری اکاؤنٹ سے پہلے ٹویٹ میں اپنی بے پایاں خوشی کا اظہارکیا ہے۔

وہ پہلے ٹویٹ میں لکھتے ہیں:’’مجھے اسرائیل میں یو اے ای کے پہلے سفیر کی حیثیت سے اپنا سرکاری اکاؤنٹ سے پیغام رسانی شروع کرنے پر خوشی ہورہی ہے۔میں اماراتیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہم اپنے عوام اور خطے بھر کے لیے امن ، مفاہمت اور خوش حالی کو فروغ دے سکیں۔مرحبا،بروشیم ،حبایم ، خوش آمدید۔‘‘

انھوں نے ٹویٹ کی اسی عبارت کو عربی اور عبرانی زبانوں میں بھی پوسٹ کیا ہے۔

اسرائیل میں یواے ای کے سفارت خانہ نے بھی اپنے نئے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پیغامات جاری کیے ہیں۔ان میں سے ایک پیغام میں اس نے کہا ہے کہ ’’ہم متحدہ عرب امارات سے متعلق معلومات اور خبریں جاری کریں گے،اپنے عوام اور خطے بھرمیں امن ، مفاہمت اور خوش حالی کو فروغ دیں گے۔‘‘

محمد محمودالخاجہ نے گذشتہ اتوار کو اپنے سفارتی عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔حاکمِ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے ان سے حلف لیا تھا۔

اس سے پہلے اسرائیل نے یو اے ای میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور ایک تجربہ سفارت کار ایتن نیح کو اپنے مشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

واضح رہے کہ یواے ای کی کابینہ نے گذشتہ ماہ تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ اسرائیل نے ابوظبی میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کررکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس شہر میں منتقل کردیا تھا۔ چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔یو اے ای نے مصر اور اردن کے اسرائیل سے امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔