.

سعودی شہری کا 26 سال سے صحرائوں کو نخلستانوں میں بدلنے کا مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا ایک زندہ دل شہری گذشتہ 26 سال سے زمینوں‌کو صحرائوں اور ویرانوں کے بجائے باغوں اور نخلستانوں میں بدلنے کے مشن پر گامزن ہے۔

عبید العونی شجرکاری میں دلچسپی رکھنے والے ہرشہری کو پودے تحفے میں دیتے ہیں تاکہ مملکت کو سرسبزو شاداب بنایا جاسکے۔
عبید العونی جنہیں سعودی عرب کی وزارت صحت نے'صحرا کے خلاف لڑنے والا سپاہی' کا لقب دے رکھا ہے نے اپنے'ٹویٹر' اکائونٹ پر ایک تعارفی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ اس میں اس عبید العونی نے نئی نسل کو اپنی شجر کاری کی مہم کے بارے میں‌ بتاتے ہوئے ان کی دلچسپی بڑھانے اور انہیں شجر کاری کی رغبت دلانے کی کوشش کی ہے۔ عبید کا کہنا ہے کہ وہ عمر رسیدہ درختوں کو بچانے اور السدر درختوں کےفروغ کے لیے 26 سال سے سرگرم ہیں اور اب تک 10 ہزار سے زاید درختوں کی شجر کاری کرچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے العونی نے کہا کہ میں‌ نے صحرائوں سے لڑنے کا فیصلہ ماحول میں خشکی کے بڑھنے کے بعد کیا۔ میرے سامنے کئی بستیاں ریت کے ڈھیروں میں بدلیں مگر اب وہ سرسبز ہوچکی ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ صحرائوں کا منظر پیش کررہی تھیں۔ وہاں درخت تلف ہوچکے تھے اور ان کی وجہ سے جنگلی حیات بھی ختم ہوچکی تھی۔ اس صورت حال کو دیکھنے کے بعد میں‌ نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے زمینوں کو صحرائوں میں بدلنے سے بچانے کے لیے اپنے تمامم وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔

عبید العونی کا کہنا تھا کہ میں‌نے 26 سال قبل شجر کاری کی مہم شروع کی۔ اس پروگرام کے نتیجے میں اب تک 10 ہزار سے زاید پودے لگائے جا چکے ہیں۔ شجر کاری کے باعث وہاں پر پرندے بھی واپس آگئے۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہر گھرکے باہر ایک درخت ہو کیونکہ یہی زندگی ہے۔ یہ میرا مستقبل کا ویژن ہے۔ ہمیں اسکولوں، گھروں کے اطراف اور خشکی کے تمام مقامات پرشجر کاری کا ماحول پیدا کرنے اور لوگوں میں شجر کاری کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔