.

سعودی عرب میں Patents میں اضافہ ، نینو ٹکنالوجی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی اتھارٹی فار انٹلیکچوئل پراپرٹی کے مطابق گذشتہ برس سے لے کر رواں ماہ فروری تک اتھارٹی نے 'سندِ حق ایجاد' (Patent) کی 20 درخواستوں کو منظور کیا۔ ان میں دو سندیں سعدی شہریوں کو جب کہ 18 سندیں سعودی عرب میں حکومتی اداروں اور نجی کمپنیوں کو دی گئیں۔

اس حوالے سے سعودی اتھارٹی فار انٹلیکچوئل پراپرٹی میں 'پیٹینٹ مینجمنٹ" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مزعل الحربی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کی۔ ان کے مطابق 2015ء سے 2020ء کے درمیان نینو ٹکنالوجی میں "حق ایجاد" کی سعودی اسناد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی نقشے کی سطح پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 2018ء میں سعودی عرب میں حق ایجاد کی 160 اسناد دی گئیں۔ ان میں 25 فی صد نینو ٹکنالوجی کے شعبے میں تھیں۔

الحربی کے مطابق سعودی عرب نینو ٹکنالوجی کے شعبے میں آٹھ مراکز کا مالک ہے۔ یہ مراکز جامعات، کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹکنالوجی اور ارامکو اور سابک جیسی کمپنیوں میں قائم ہیں۔ یہ ایک تابناک ٹکنالوجی ہے جس کی تمام اقسام کے ساتھ مملکت کو ضرورت ہے۔ نیوم سٹی میں بھی نینو ٹکنالوجی کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہو گی۔ اس ٹکنالوجی کا صنعتی اور اقتصادی سطح پر بڑا اثر ہو گا

یاد رہے کہ نینو ٹکنالوجی کے فوائد میں توانائی کے استعمال میں کمی ، پیداوار کی اہلیت میں اضافہ اور ماحول دوست ہونا اہم ترین ہے۔ اسی واسطے دنیا کے مختلف حصوں میں کئی حکومتیں اس میں دل چسپی لینے کے علاوہ اس سے متعلق تحقیق کا دائرہ بڑھا رہی ہیں۔