.

کویتی پارلیمنٹ ’’مجلس الامہ‘‘ کے اجلاس ایک ماہ لئے معطل رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’کونا‘‘ نے بدھ کے روز جاری ہونے والے کویتی امیر شیخ نواف الاحمد الصباح کے شاہی فرمان کے حوالے سے بتایا ہے ’’کہ کویتی پارلیمنٹ [مجلس الامہ] کے اجلاس ایک ماہ کے لیے معطل کیے جا رہے ہیں۔ فیصلے پر عمل درآمد اٹھارہ فروری سے ہو گا۔‘‘

حالیہ اقدام مجلس الامہ اور تشکیل دی جانے والی حکومت کے درمیان مخاصمت کے بعد کیا جا رہا ہے جس کے بعد گذشتہ ہفتے کابینہ مستعفیٰ ہو گئی تھی۔

گذشتہ برس ستمبر میں اقتدار سنبھالنے والے کویتی امیر نے اپنے اقتدار کے پہلے سیاسی بحران کے بعد شیخ صباح الخالف الصباح ہی کو دوبارہ وزیر اعظم نامزد کرتے ہوئے نئی کابینہ تشکیل دینے کو کہا تھا۔

کویتی خبر رساں ادارے نے کابینہ کے ٹویٹر اکاونٹ کے ذریعے جاری ہونے والے شاہی فرمان کی مزید کوئی تفیصل نہیں بتائی۔

یاد رہے کویت میں منتخب ایوان اور کابینہ کی موجودگی کے باوجود حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار کویتی امیر کے پاس ہوتا ہے۔

50 رکنی کویتی پارلیمنٹ کے 30 ارکان نے ایک قراردار کی حمایت کی تھی جس میں وزیر اعظم شیخ صباح کے من پسند افراد کو کابینہ میں وزیر بنانے جیسے فیصلوں سمیت مختلف امور کو چیلنج کیا گیا تھا

چوبیس جنوری سے وزیر اعظم کے طور پر دوبارہ نامزدگی کے انہوں نے پارلیمانی دھڑوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور وزیر مقرر کرنے کے لئے مزید وقت طلب کیا ہے۔ ان کے اس مطالبے سے کچھ ارکان پارلیمنٹ کو شکایت پیدا ہوئی ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی نمائندہ تنظیم ’’اوپیک‘‘ کے سب سے امیر رکن کویت میں جاری سیاسی بحران کے بعد کرونا وائرس اور تیل کی قیمتوں ہوشربا حد تک کمی کے باعث پیدا ہونے والے خسارے پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کویت میں کابینہ اور پارلیمنٹ کے درمیان ڈیڈلاک اور اختلافات کی وجہ سے گذشتہ کئی برسوں سے حکومت میں تبدیلی سمیت پارلیمنٹ تحلیل کی جاتی رہی ہے جس سے سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی اصلاحات کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا۔

اس وقت کویت میں عبوری نظام سابقہ حکومت ہی چلا رہی ہے۔