.

اسرائیل نے ایرانی جوہری معاہدے کی خامیاں گنوانا شروع کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سابق مندوب نے قیود کے بغیر امریکا کی جوہری معاہدے میں واپسی سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ممکنہ ردود عمل پر نظر کرے گا۔

امریکی جریدے نیوز ویک کو دیے گئے بیان میں ڈینی ڈینن کا کہنا تھا کہ "وہ جانتے ہیں کہ ہماری کیا توقعات ہیں"۔

سابق مندوب نے مزید کہا کہ "امریکی جانتے ہیں کہ جوہری معاہدے میں کیا نقائص ہیں۔ ماضی میں ہم اعلانیہ طور پر بتا چکے ہیں اور میں کئی بار انہیں سلامتی کونسل میں پیش کر چکا ہوں"۔

جولائی 2015ء میں ایرانی جوہری معاہدہ طے پانے کے محض ایک ماہ بعد ڈینی ڈینن کا اقوام متحدہ میں بطور اسرائیلی مندوب تقرر عمل میں آیا تھا۔ ڈینن نے اپنے بیان میں مذکورہ سمجھتے میں موجود نقائص کو واضح کیا۔ ان میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو ترقی دینے ، محدود پیمانے پر یورینیم افزودہ کرنے اور علاقائی ملیشیاؤں کو سپورٹ کرنے وغیرہ کی اجازت شامل ہے۔

اسرائیلی سابق مندوب نے باور کرایا کہ صورت حال محض گذشتہ پانچ برسوں میں خراب ہوئی ہے۔ اگر امریکا مذکورہ نقائص کو ایک جانب رکھ کر جوہری معاہدے میں دوبارہ داخل ہوا تو اسرائیل کو ایران کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

ڈینی ڈینن کے مطابق 2021ء کا ایران 2016ء کا ایران نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹننٹ جنرل افیف کوخافی نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے "فوج کو حکم دیا ہے کہ آئندہ برس کے دوران متعدد عملی منصوبے تیار کریں۔ ان کا مقصد جو بائیڈن کی مشترکہ ورکنگ پلان میں ایک بار پھر ممکنہ واپسی کی صورت میں رد عمل کے آپشن تیار کرنا ہے۔ کوخافی نے باور کرایا تھا کہ " ان منصوبوں پر عمل درامد کا فیصلہ یقینا حکومت ہی کرے گی مگر ان منصوبوں کو تیار ہونا چاہیے اور انہیں منظوری کے لیے پیش کر دیا جانا چاہیے"۔