.

امریکا نے اسرائیل کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت پر تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے پیشگی طور پر اسرائیل کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ جمعرات کے روز ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہونے کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتائی۔ بات چیت کا مقصد واشنگٹن اور تہران کی جوہری معاہدے میں واپسی ہے۔ یہ معاہدہ 2015ء میں ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔

تاہم مذکورہ ذرائع کے مطابق بائیڈن نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیر اعظم سے بات چیت کے موقع پر بنیامین نیتن یاہو کو ایران سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے براہ راست طور پر آگاہ نہیں کیا۔

اس موقع پر نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کی شب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ 5+1 گروپ کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے یورپی یونین کی دعوت قبول کرے گا۔

واشنگٹن نے سلامتی کونسل کو آگاہ کر دیا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا اعلان منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ادھر برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک بیان میں تہران کے ساتھ سفارتی راستے پر واپس آنے کے حوالے سے واشنگٹن کے ارادے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم ان ممالک نے ایران کی جانب سے حالیہ جوہری خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔