.

نیتن یاہو کا شام کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا اقرار، سرپرستی پر روس کا شکریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ایک اسرائیلی خاتون کی واپسی کے لیے روس کی مدد سے کام کیا جا رہا ہے۔ یہ خاتون سرحد پار کر کے شام کے اندر چلی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک سیکورٹی آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے دو شامی چرواہوں کو گولان میں لائن آف سیزفائر کے راستے واپس کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں چرواہوں کی واپسی قیدیوں کے تبادلے کا حصہ ہے۔

البتہ گولان کے راستے شامی اراضی میں آ جانے والی اسرائیلی خاتون کی شناخت اور دیگر متعلقہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

جمعے کی صبح جاری بیان میں نیتن یاہو نے بتایا کہ مذکورہ اسرائیلی خاتون نے چند روز قبل سرحد عبور کی تھی جس پر شامیوں نے اسے حراست میں لے لیا۔ نیتن یاہو نے خاتون کی واپسی میں مدد کرنے پر دمشق کے حلیف روسی صدر ولادی میر پوتین کا شکریہ ادا کیا۔

شامی ذرائع ابلاغ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ اسرائیل کے پاس زیر حراست دو شامیوں کی رہائی کے مقابل اسرائیلی خاتون کی رہائی کا سمجھوتا طے کرانے کے لیے روس نے وساطت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

بشار حکومت کے ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں شامی شہریوں کا تعلق گولان کی پہاڑیوں سے ہے جس پر اسرائیل قابض ہے۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے سیکورٹی جرائم کے سبب قید دونوں افراد کو رہائی کی پیش کش کی تھی تاہم انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ اس لیے کہ دونوں افراد چاہتے تھے کہ انہیں دمشق بھیج دیا جائے۔