.

شام میں بشار کے حلیفوں روس اور ایران کی رسہ کشی سیکورٹی کمپنیوں تک پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ عرصے کے دوران شام میں بشار حکومت کے دونوں حلیفوں روس اور ایران کے درمیان شدید مسابقت کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔ ان میں اہم ترین یہ ہے کہ ہر فریق اپنے مد مقابل کو نارمل رکھنے اور اپنا کنٹرول مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔

روس شام میں ایران کے برتاؤ سے نالاں ہے۔ تہران کے زیر انتظام ملیشیاؤں کی صفوں میں ہزاروں افراد کی بھرتی کے جواب میں ماسکو نے چند روز قبل شامی قبائل کے ساتھ ایک ہنگامی ملاقات کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر روس نے بشار الاسد کے آشیرباد سے اپنی شرائط لاگو کیں۔

اس تنازع کی تازہ ترین صورت یہ ہے کہ بشار الاسد کے دونوں حلیفوں کو نجی سیکورٹی کمپنیوں کی شکل میں اپنے ایجنڈے پر عمل درامد کا راستہ نظر آیا ہے۔

اگرچہ شام کا تنازع شروع ہونے کے وقت سے ہی روس اور ایران "تعاون کے تعلق" کی بات کرتے ہیں تاہم کئی مواقف کے سبب ان "حلیفوں کا تنازع" آشکار ہو چکا ہے۔ ایک طرف شام کے جنوب میں درعا اور القنیطرہ صوبے، دمشق کے دیہی علاقے اور دریائے فرات کے مشرق میں دیگر علاقے ایران کے زیر کنٹرول آئے، دوسری طرف ملک کے مغرب میں ساحلی علاقے اور وسط میں ایک بڑا حصہ مثلا حمص اور حماہ کے صوبے ، شمال کے بعض علاقے اور دمشق کے دیہی علاقوں کا بعض حصہ روس کا نصیب بنا۔

اس حوالے سے عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجی سیکورٹی کمپنیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کو پُرکشش تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ تنخواہیں سرکاری ملازمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ سیکورٹی کمپنیاں برسوں سے موجود ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں بہت سے لوگوں کو علم نہیں تھا۔ ایسی معلومات بھی ہیں کہ یہ کمپنیاں ایران اور روس کے زیر انتظام ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران اور روس نے گذشتہ چند ماہ کے دوران بشار حکومت کے زیر کنٹرول تمام صوبوں میں نجی سیکورٹی کمپنیوں کے ذریعے اپنا نفوذ بڑھایا ہے۔ معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ 70 سے زیادہ رجسٹرڈ کمپنیاں کئی سیکٹروں میں کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے عملے کو روس کی نجی کمپنی "ویگنر فورسز" کے زیر نگرانی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ کمپنی مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔

اس کے مقابل ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے طور پر شام میں متعدد نجی سیکورٹی کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان کی آڑ میں ملک کے مختلف حصوں میں تہران کے زیر انتظام ملیشیاؤں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔

معلومات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ سیکورٹی کمپنیاں شام میں دیر الزور اور دمشق میں مذہبی مقامات کا دورہ کرنے والے عراقی، ایرانی اور لبنانی زائرین کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان راستوں کو بھی محفوظ بناتی ہیں جن کے ذریعے تیل منتقل ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ بشار کے والد حافظ الاسد کے دور سے ہی شام میں سیکورٹی کمپنیوں کو پرمٹ کے اجراء کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ حکومت کے زیر انتظام سیکورٹی ادارے ہی داخلی طور پر سیکورٹی کے ذمے دار رہے۔ وزارت داخلہ تمام تر سیکٹروں میں سرکاری اداروں کے تحفظ کی ذمے دار رہی۔ تاہم بشار الاسد کے دور میں یعنی سال 2000ء سے آج تک 75 سیکورٹی کمپنیوں کو پرمٹ دیے جا چکے ہیں۔