.

لبنان: درزنیں اب کووِڈ-19 سے چل بسنے والوں کے لیے کفن تیار کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کرونا وائرس کی وبا سے قبل ایک ٹیکسٹائل ورکشاپ میں اسکولوں کی وردیاں سی جاتی تھیں یا چھٹیوں کے ملبوسات تیار کیے جاتے تھے لیکن اب کسی اور لباس کی مانگ زیادہ ہوچکی ہے اور یہ کووِڈ-19 سے موت کے منھ میں چلے جانے والوں کے لیے کفن کی تیاری ہے۔

لبنان کے جنوبی شہر صیدا میں ملبوسات تیار کرنےوالی ایک ورکشاپ میں بھی کچھ ایسا ماحول ہے۔ اس کی نگران اُم عمر بتاتی ہیں کہ ’’پہلے ہم تیوہاروں کے ملبوسات، اسکولوں کی وردیاں اور عازمین کے لیے لباس تیار کرتے تھے۔‘‘

لیکن اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی کرونا وائرس سے مرنے والوں کے لیے کفن تیار کررہے ہیں۔ یوں ہم خوشی سے غم کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔‘‘

ان کی ورکشاپ میں درزنیں چہرے پر ماسک پہنے سیاہ کفن سینے میں مصروف تھیں۔ اُم عمر کاکہنا تھا کہ ’’اس طرح کا کام پریشان کن ہوتا لیکن ہم کفنوں کی بہت زیادہ طلب کے پیش نظر یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘

ملک میں وبا پھیلنے کے بعد اُم عمر کی ورکشاپ میں چہرے کے ماسک اور میڈیکل گاؤن بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان کی آبادی 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔گذشتہ سال وبا پھیلنے کے بعد سے اس ملک میں کووِڈ-19 کے 343584 کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے۔ان میں سے 4092 وفات پا چکے ہیں۔

لبنانی حکومت نے گذشتہ اتوار کو ملک میں ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل نصف آبادی کو ویکسین لگا دی جائے گی۔