.

ایرانی ملیشیا 'زینبیات' کا یمنی خواتین کو دھمکیوں اور لالچ سے ورغلانے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں‌ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی تیار کردہ 'زینبیات' یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر تسلط علاقوں میں خواتین کو دھونس اور لالچ کے ذریعے اپنے چنگل میں پھنسا کر انہیں عسکریت پسندی کا ایندھن بنانے کی سازش کر رہی ہے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مفلوک الحال خاندانوں کو چند پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو جنگ میں‌ بھرتی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اخبار 'الشرق الاوسط' کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ 'زینبیات' ملیشیا یمن میں حوثی باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنے کی خاطر ان کی مائوں کو لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے ورغلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف حوثی عسکریت پسند مارب میں حکومتی فورسز کے خلاف ایک نئی لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

صنعا گورنری کے علاوہ آب، مآرب، عمران، حجہ اور دوسرے علاقوں میں جنوری سے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے ان کی مائوں کو لالچھ کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا اور زینبیات ملیشیا کی طرف سے خواتین کو بلیک میل کرنے کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں پہلے ہی بچوں اور خواتین سمیت عام شہری آبادی کے بنیادی حقوق کا کھلے عام استحصال کیا جا رہا ہے۔ بچے تعلیم اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے اور انہیں موت کے منہ میں لے جانے کی سرگرمیوں‌ کے ساتھ ان کے ذہن میں فرقہ واریت کے بیج بونے جیسے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یمنی خواتین اور مائوں کو اپنے بچے جنگ میں جھونکنے پر قائل کرنے کے لیے انہیں انہیں مالی معاونت کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ خواتین کو کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہود ونصاریٰ کے خلاف جہاد کے لیے پیش کریں۔ اگر ان کے بچے شہید ہوگئے تو وہ شہدا کی مائیں کہلائیں گی ورنہ وہ غازیوں کی مائیں کہلائیں گی۔