.

جوہری معائنے میں کمی کے حوالے سے ایران اپنے فیصلے پر عمل کرے گا: نائب وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ "ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رفائیل گروسی کے تہران کے دورے کا ایران کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ، ایران اپنے فیصلے پر عمل درامد کرے گا"۔ یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز سرکاری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

عراقجی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل کے نتیجے میں 'آئی اے ای اے' کی نگرانی کے تناسب میں 20 سے 30 فی صد کی کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران یورپی یونین کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ تجویز میں ایرانی جوہری معاہدے میں شامل موجودہ ممالک اور امریکا کے درمیان ایک غیر سرکاری اجلاس منعقد کرنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم ایران نے ابھی تک اس تجویز کا جواب نہیں دیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم سجھتے ہیں کہ جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کسی اجلاس کی متقاضی نہیں ،،، یقینا اس کا واحد راستہ پابندیاں اٹھانا ہے"۔

ایران اور امریکا کے بیچ یہ اختلاف گردش میں ہے کہ جوہری معاہدے کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے پہلا قدم کس کو اٹھانا چاہیے۔ ایران کا اصرار ہے کہ امریکا کو پہلے ان پابندیوں کو اٹھانا چاہیے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کی تھیں جب کہ امریکا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ پہلے تہران جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف واپس لوٹے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے رواں ماہ کے دوران کہا تھا کہ جوہری معاہدے کی جانب واپسی کے لیے پہلا قدم اٹھانے کے حوالے سے قائم ڈیڈ لاک پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے رابطہ کار جوزیپ بوریل مطلوبہ اقدامات کو ترتیب دے سکتے ہیں۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رفائیل گروسی ہفتے کے روز تہران پہنچے ہیں۔ چند ہفتے قبل ایرانی پارلیمنٹ نے واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے لیے 23 فروری کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔ بصورت دیگر ایران آئی اے ای اے کی اچانک تفتیش اور معائنے کی کارروائیاں روک دے گا۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی یہ کہہ چکے ہیں کہ جوہری معاہدے کو از سر نو زندہ کرنے کے حوالے سے "سفارتی اختلاف" جاری رہنے کے باوجود تہران کے نزدیک امریکی پابندیاں جلد اٹھا لی جائیں گی۔

بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے تحت ایران نے بین الاقوامی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے مقابل اپنے جوہری پروگرام پر قیود نافذ کرنے پر موافقت کا اظہار کیا تھا۔ مئی 2018ء میں امریکی صدر نے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر کے ایران پر دوبارہ سے کڑی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جواب میں ایران نے معاہدے کی بعض شقوں کی پاسداری ختم کر دی۔

مبصرین کو اندیشہ ہے کہ اگرچہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے سلسلے میں مثبت اشارے دیے ہیں تاہم اس کے باوجود ایران ہٹ دھرمی کا مظاہر کر رہا ہے۔